اکثر ذیابیطس کے مریض یہ سمجھتے ہیں کہ چائے کے ساتھ شوگر فری یا نمکین بسکٹ کھانا ان کی صحت کے لیے محفوظ ہے، مگر ماہرین غذائیت کے مطابق یہ خیال ہمیشہ درست نہیں ہوتا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بازار میں دستیاب ’شوگر فری‘ یا ’ڈائیابیٹس فرینڈلی‘ لیبل والے بسکٹ بظاہر محفوظ لگتے ہیں، لیکن ان میں شامل اجزاء بعض اوقات خون میں شوگر کی سطح کو تیزی سے بڑھا سکتے ہیں۔
بسکٹ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے کیوں خطرناک ہو سکتے ہیں؟
ماہرِ غذائیت ڈاکٹر ہرشیتا کے مطابق ان بسکٹوں میں اکثر درج ذیل اجزاء شامل ہوتے ہیں:
میدہ یا ریفائنڈ فلور
مالٹوڈیکسٹرین (پروسیسڈ اسٹارچ)
ریفائنڈ ویجیٹیبل آئل
مصنوعی مٹھاس اور ایمولسیفائر
میدہ اور ریفائنڈ آٹا خون میں گلوکوز کی سطح کو تیزی سے بڑھاتے ہیں جبکہ مالٹوڈیکسٹرین کا گلائسمک انڈیکس بعض اوقات چینی سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔
شوگر کنٹرول نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ
بعض مریض یہ شکایت کرتے ہیں کہ وہ چینی کے بغیر چائے پیتے ہیں مگر پھر بھی شوگر کنٹرول نہیں ہوتی۔ ماہرین کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ چائے کے ساتھ روزانہ کھائے جانے والے بسکٹ بھی ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی مشاہدات کے مطابق جب مریضوں نے اپنی غذا سے یہ بسکٹ نکال دیے تو ان کا بلڈ شوگر لیول بہتر ہونے لگا۔
ماہرین ذیابیطس کے مریضوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ:
بازار کے بسکٹ کے بجائے گھر کے بنے اوٹس یا بغیر چھنے آٹے کے بسکٹ استعمال کریں
چائے کے ساتھ پھل، گریاں یا صحت مند اسنیکس کھائیں
پیکٹ پر لکھے لیبل کے بجائے اجزاء کی فہرست ضرور پڑھیں
نتیجہ
ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف ’شوگر فری‘ کے لیبل پر اعتماد نہ کریں بلکہ خوراک کے اجزاء کو سمجھ کر استعمال کریں تاکہ بلڈ شوگر کو قابو میں رکھا جا سکے۔