مہنگائی

آج کل ہر ایک کی زبان پہ ایک ہی نعرہ ہے مہنگائی ،مہنگائ مہنگائی ... بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اس دور میں جہاں ہر چیز کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ہے وہی پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عوام کو چکرا کے رکھ دیا ہے۔ ہر طرف روز مرہ کی اشیاۓ ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کی تکرار ہے۔ مگر کوئی پرسان حال نہیں۔

مہنگائی، مہنگائی اور مہنگائی ۔۔۔۔ تبدیلی کے دعوے محض دعوے

کہتے ہیں پہلے تولو پھر بولو مگر وزیراعظم عمران خان نے ماضی میں بغیر تولے کچھ بول دیا تھا جو اب ان کے گلے کی ہڈی بن رہی ہے، مہنگائی نہیں ہوگی، تیل سستا ملے گا، چینی، دالیں اور گھی عام عوام کی قوت خرید سے باہر نہیں ہوگی مگر یہاں تو سب کچھ الٹ چل رہا ہے۔

حکومت، فیصلہ، مفادات اور عوام

قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے سوبار سوچو پھر قدم اٹھاؤ، جب قدم اٹھا لو تو پھر اس پر ڈٹے رہو یہاں تک کے وہ فیصلہ صحیح ثابت ہوجائے۔ آخر ایسا کیوں کہا گیا؟

افغانستان کی سفارت کاری ہمارے ذمہ، پاکستان کی کون کرے گا؟

افغانستان کا موضوع تب ہی سے ہر زبان اور قلم کا انتخاب بنا ہوا ہے جب سے طالبان کابل پر آگئے ہیں،اب آگئے ہیں یا لائے گئے ہیں یہ داستان پھر سہی۔ ہمارا اصل موضوع ہے افغانستان سے متعلق پاکستان کی پالیسی کچھ بیانات ملاحظہ ہوں

Subscribe to this RSS feed