مقصدِ حیات

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے یہ وسیع و عریض کائنات خلق فرمائی۔ اس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہے کہ یہ عظیم کائنات بغیر کسی مقصد کے تخلیق نہیں کی گئی۔ ہر شے ایک خاص ہدف و مقصد کے تحت وجود میں آئی۔ احقر نے جو کالم تحریر کیا اس کا بھی ایک مقصد ہے اور وہ یہ کہ عوام الناس اسے پڑھ کر اپنی اصلاح کریں اور صحیح مقاصد کا تعین کریں۔ اسی طرح حضرتِ انسان جو کہ اشرف المخلوقات ہے، بغیر ہدف اور مقصد کے اس دنیا میں نہیں بھیجا گیا۔ انسان پر اس دنیا کچھ اہم امور کی انجام دہی فرض قرار دی گئی ہے۔

کیا ہم قوم ہیں اور ایک ہیں ؟

گذشتہ دنوں ایک افطار پارٹی میں جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں موجود ہر شخص ایسے تیا رہوا تھا کہ جیسے یہ مقدس محفل نہیں بلکہ کوئی شادی بیاہ کی تقریب ہے ۔ کیا کجھور تھی تو کیا پھل فروٹ سب پر جیسے ہر کوئی جھپٹ رہا تھا ۔ اسی چھینا چھپٹی میں بہت سا رزق ضائع بھی ہو رہا تھا لیکن کسی کو کسی کی پروا نہیں تھی جو جس کے ہاتھ میں آرہا تھا اسی سے اپنی پلیٹیں لبا لب بھر رہا تھا ۔

جھوٹ فاتح کھڑا مسکراتا رہا

 میں موت سے نہیں ڈرتی.

کیونکہ میں نے اپنے حصے کا  کام مکمل کر لیا ہے ۔

میں نے بکتے ضمیروں ، جہالت ،مفلسی اور لاقانونیت کی داستان سنا دی ہے ۔

میں نے سب سچ لکھا

پر کچھ داد و شہرت نہ ملی ۔

اور جھوٹ اپنی تمام تر دھوکہ بازیوں کے ساتھ سینہ تانے

فاتح کھڑا مسکراتا رہا  ۔

میں نے سچ لکھتے ہی قلم توڑ دیا اور سکون سے آنکھیں موند  لیں ۔۔

Subscribe to this RSS feed