میانمار کی سیاسی رہنما آنگ سان سوچی جیل منتقل

 سیاسی رہنما آنگ سان سوچی فائل فوٹو سیاسی رہنما آنگ سان سوچی

میانمار میں فوجی بغاوت کے بعد گرفتار ہونے والی سیاسی رہنما آنگ سان سوچی کے بارے میں اہم ترین خبر سامنے آگئی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق میانمار میں فوج کی جانب سے بغاوت کے بعد آنگ سان سوچی پر مختلف مقدمات بنا کر انہیں گرفتار کرکے گھر پر نظر بند کیا گیا بعد ازاں انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا جس کے بعد سے ان کی کوئی خبر نہیں تھی۔

تاہم اب میانمار کی فوج نے آنگ سان سوچی کو نامعلوم حراستی مرکز سے دارالحکومت نیپی دو کے ایک جیل میں منتقل کردیا ہے۔

یاد رہے کہ یکم فروری دو ہزار اکیس کو میانمار میں فوج نے بغاوت کرتے ہوئے حکومت کا تختہ الٹ کر مملکت کی کونسلر (وزیراعظم) آنگ سان سوچی کو گرفتار کرلیا تھا اور 28 فروری کو پہلے مرتبہ ویڈیو لنک کے ذریعے سوچی کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

اب تک وہ چھ جرائم میں قصور وار ٹہرائی جاچکیں ہیں، جن میں انہیں مجموعی طور پر گیارہ سال قید کی سزاملی چکی ہے، سوچی کو تقریباً ایک درجن مقدمات کا سامنا ہے، ان مقدمات میں انہیں زیادہ سے زیادہ سو سال قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

میانمار کی اس رہنما کو غیر قانونی طور پر واکی ٹاکیز درآمد کرنے کے الزام پر دو سال کی سزا سنائی گئی ہے جبکہ سگنل جیمرز کے ایک سیٹ کو غیر قانونی طور پر رکھنے پر انہیں ایک سال کی سزا سنائی گئی، یہ دونوں الزامات ان کے گھر کی تلاشی لیے جانے سے حاصل ہونے والے ثبوتوں کی بنیاد پر عائد کیے گئے، یہ دونوں سزائیں ایک ساتھ لاگو کی گئیں۔

سوچی کو کورونا وائرس کے باعث عائد حکومتی پابندیوں کی خلاف ورزی پر بھی دو سال کی سزا سنائی گئی ہے۔

اس کے علاوہ دوسرے مقدمے میں چار برس قید کی سزا سنائی گئی تھی، بعد ازاں میانمار کے فوجی سربراہ نے اس سزا کو نصف کردیا اور کہا تھا کہ وہ دارالحکومت نیپیداو میں اپنے گھر میں نظر بند رہ کر اپنی سزا کی مدت کو مکمل کر سکتی ہیں۔

subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store