ہو جائیں ٹینشن فری، لقوہ اب بڑی بیماری نہیں

’’لقوہ‘‘ کو سب سے پہلے سرچارلس بیل نے بیان کیا۔ اس لیے اس کو اس کے نام پر بیل پالسی بھی کہتے ہیں۔

چہرے کے سارے پٹھے ایک چہرہ کی نرو (نس) کے زیر اثر ہیں جس کو نرو چہرہ (Facial Nerve) کہتے ہیں۔ چہرہ کے اور آنکھ کے سارے پٹھوں کی بدولت آدمی خوشی، غمی، افسوس و یاس، ہنسنا، رونا، تفکر و سنجیدگی، ڈر اور خوف وغیرہ کے جذبات کا اظہار کرتا ہے۔ جب ’’لقوہ‘‘ میں یہ نرو متاثر ہوتی ہے تو جس طرف حملہ ہو اس طرف کی مندرجہ بالا خصوصیات متاثر ہوتی ہیں۔

منہ ٹیڑھا ہو جاتا ہے، رالیں بہنے لگتی ہیں، آنکھوں سے پانی آنا شروع ہو جاتا ہے، نہایت تکلیف دہ صورت حال ہوتی ہے۔ بندے کو اپنی شکل بھدی اور بدنما لگنے لگتی ہے۔ نفسیاتی طور پر بندہ ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے۔ کسی سے بات کرنے کو دل کرتا ہے نہ کسی سے ملنے کو۔ انسان اکیلے کمرے میں محبوس ہو جاتا ہے۔ ہمارے بعض شہروں میں لقوہ کے مریض کو سر پہ کپڑا لپیٹ کر ایک کمرے میں بند کر دیا جاتا ہے۔ لقوہ کی بیماری تو اتنی خطرناک نہیں مگر ساتھ رہنے والے اور بہی خواہ اس کو زیادہ ترتکلیف دہ اور پرخطر بنا دیتے ہیں۔

وجوہات:

لقوہ ہر عمر کے لوگوں میں ہو سکتا ہے۔ عموماً یہ بیماری مردوں میں زیادہ ہوتی ہے۔ لقوہ ہونے کی اصل وجہ ابھی پس پردہ ہے۔ تحقیقات جاری ہیں۔ شاید کبھی پتہ چل سکے۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ ہر پیس زوسٹر وائرس سے ہوتی ہے۔ کچھ کہتے ہیں کہ گلے کی خرابی بھی اس کا باعث بن سکتی ہے۔

علاج:

لقوہ کو خطرناک مرض نہ سمجھنا چاہیے۔ مناسب علاج سے اس سے نجات پائی جا سکتی ہے۔ مختلف قسم کے جعلی حکیم، ڈاکٹر اور پیر خواہ مخواہ لوگوں کو پریشان کرتے ہیں۔ ایک مریض نے بتایا کہ کسی پیر نے اسے منہ دھونے سے منع کیا۔ جب وہ ہسپتال آیا تو لقوہ کے ساتھ ساتھ اسے منہ کا انفیکشن بھی ہو چکا تھا۔ ’’لقوہ‘‘ کا علاج درج ذیل خطوط پر کیا جاتا ہے:

-1 ادویات -2فزیو تھراپی -3پلاسٹک سرجری

 ادویات:

لقوہ کی بیماری چہرہ کی نرو کی سوجن یا انفیکشن کی وجہ سے ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے چہرہ ٹیڑھا ہو جاتا ہے۔ آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں اور منہ سے پانی نکلتا رہتا ہے۔ آدمی چنگا بھلا سوتا ہے اور صبح اٹھتا ہے تو اچھا بھلا چہرہ ٹیڑھا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اس بیماری کے علاج کے لیے مختلف دوائیں استعمال کی جاتی ہیں۔ جن میں کچھ درج ذیل ہیں:

  • مختلف قسم کے انجکشن
  • سٹیرائیڈ دوائیں
  • مختلف قسم کی ہومیو پیتھک اور ہربل دوائیں

احتیاط:

دوا ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورہ سے استعمال کریں۔

  • سٹیرائیڈز دواؤں کی مقدار ڈاکٹر کے مشورہ سے بتدریج کم کرنا پڑتی ہے اس لیے اس دوران ڈاکٹر سے رابطہ ضروری ہے۔
  • لقوہ کی بیماری کے دوران مختلف قسم کے مقوی صحت مشروبات اور ٹیکے استعمال کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اس لئے ان کے استعمال سے پرہیز کریں۔
install suchtv android app on google app store