کیا سیڑھیاں چڑھنے کے بعد آپ کو سانس لینے میں مشکل محسوس ہوتی ہے؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ایک عام مسئلہ ہے اور بہت سے افراد کو اس کا سامنا ہوتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض اوقات ایتھلیٹس کو بھی سیڑھیاں چڑھنے کے بعد سانس پھولنے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ماہرین کے مطابق سیڑھیاں چڑھنا جسم کے لیے ایک مشکل جسمانی سرگرمی ہے کیونکہ اس دوران جسم کو زیادہ طاقت، توانائی اور آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔
سیڑھیاں چڑھنے سے سانس کیوں پھولتی ہے؟
1. پٹھوں کا زیادہ استعمال
ماہرین کے مطابق انسانی جسم کے پٹھوں میں دو قسم کے مسل فائبرز ہوتے ہیں:
سست رفتار مسل فائبرز
تیز رفتار مسل فائبرز
سیڑھیاں چڑھتے وقت جسم کو زیادہ طاقت درکار ہوتی ہے جس کے لیے تیزی سے متحرک ہونے والے مسل فائبرز استعمال ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جسم جلد تھک جاتا ہے اور سانس تیز ہو جاتی ہے۔
2. کششِ ثقل کے خلاف کام
جب ہم زمین پر چلتے ہیں تو جسم کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی، مگر سیڑھیاں چڑھتے وقت جسم کو اپنے وزن کے ساتھ اوپر کی طرف اٹھنا پڑتا ہے۔
یعنی ایک طرح سے جسم کششِ ثقل کے خلاف جدوجہد کر رہا ہوتا ہے جس سے توانائی زیادہ خرچ ہوتی ہے اور سانس تیز ہو جاتی ہے۔
3. بغیر تیاری کے جسمانی سرگرمی
ورزش یا دوڑ سے پہلے لوگ عام طور پر وارم اپ کرتے ہیں تاکہ جسم کو تیار کیا جا سکے۔ مگر روزمرہ زندگی میں سیڑھیاں چڑھتے وقت ہم کوئی تیاری نہیں کرتے۔
اس وجہ سے اچانک جسمانی محنت کرنے پر آکسیجن کی طلب بڑھ جاتی ہے اور سانس پھولنے لگتی ہے۔
4. غیر استعمال شدہ مسلز کا استعمال
سیڑھیاں چڑھنے کے دوران جسم کے وہ پٹھے بھی کام کرتے ہیں جو عام طور پر کم استعمال ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے بھی جسم جلد تھک جاتا ہے اور سانس لینے میں مشکل محسوس ہوتی ہے۔
5. آکسیجن کی زیادہ ضرورت
جب جسم کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ زیادہ آکسیجن استعمال کر رہا ہے تو وہ تیزی سے سانس لینے لگتا ہے تاکہ پھیپھڑوں تک زیادہ آکسیجن پہنچ سکے۔ اسی عمل کو ہم سانس پھولنا کہتے ہیں۔
کیا سانس پھولنا فٹ نہ ہونے کی علامت ہے؟
ماہرین کے مطابق سیڑھیاں چڑھتے وقت سانس پھولنا ہمیشہ کمزور فٹنس کی علامت نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ فٹ افراد بھی اس کا تجربہ کر سکتے ہیں کیونکہ یہ ایک قدرتی جسمانی ردعمل ہے۔