کس حالت میں روزہ توڑنا جائز ہے؟

روزہ توڑنا کس حالت میں فرض اور واجب ہے اور کس حالت میں جائز ہے اور کن حالتوں میں کھانا کھانا واجب اور فرض کے درجے میں ہے، کس حالت میں مکروہ اور کن حالتوں میں مستحب ہے؟

جواب: رمضان شریف کے روزے ہر عاقل، بالغ مسلمان پر فرض ہیں اور کسی صحیح عذر کے بغیر روزہ نہ رکھنا یا توڑنا حرام ہے، شریعت نے جن اعذار میں فرض روزہ نہ رکھنے یا توڑنے کی اجازت دی ہے وہ 9 ہیں۔

سفر: اگر کوئی شخص سفر شرعی میں ہو تو اس کے لیے روزہ توڑنا یا نہ رکھنا جا ئز ہے، بعد میں ان روزوں کی قضا لازم ہےالبتہ اگر سفر میں کوئی مشقت نہیں کرتا تو روزہ رکھ لینا بہتر ہے۔

شدید بیماری: جو بیمار روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہو اور روزہ رکھنے سے اس کی بیماری بڑھنے کا اندیشہ نہ ہو اس پر بھی روزہ رکھنا لازم ہے۔

اگر بیماری ایسی ہو کہ اس کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتا یا روزہ رکھنے سے جان جانے، بیماری بڑھ جانے یا اس کی طوالت کا خطرہ ہو تو اسے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے، مگر جب تندرست ہو جائے تو بعد میں ان روزوں کی قضا اس کے ذمے فرض ہے کفارہ نہیں ہے۔

عورت کا حاملہ : حاملہ کو اگر روزہ رکھنے سے اپنی جان یا بچے کی جان کا خوف ہو تو اس کے لیے روزہ نہ رکھنا یا توڑنا جائز ہے ،صحت کے بعد ان روزوں کی قضا کرنا ضروری ہو گا، البتہ کفارہ لازم نہیں ہو گا۔

شدید بھوک اور پیاس کا لگنا: نہ کھانے اور پینے سے ہلاکت یا عقل کے نقصان کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں روزہ توڑنا جائز ہے البتہ بعد میں قضا لازم ہے، کفارہ نہیں ہے۔

ہلاکت یا عقل کے نقصان کا خوف: ہلاکت یا عقل کے نقصان کا خوف چاہے کسی وجہ سے بھی ہو ، مثلاً سانپ یا زہریلے جانور نے کاٹ لیا ہو، اس صورت میں روزہ توڑنا جائز ہے، بعد میں قضا لازم ہے، کفارہ نہیں۔

جہاد: اگر مجاہد کو یقین ہے کہ آج جنگ ہو گی اور دورانِ جنگ ضعف کا خدشہ ہو تو اس کے لیے بھی افطار جائز ہے، بعد میں قضا لازم ہے، کفارہ نہیں۔

اکراہ: اکراہ یعنی اگر کوئی زبردستی کھانے پر مجبور کرے لیکن نہ کھانے کی صورت میں قتل، کسی عضو کے تلف یا تکلیف دہ مار کا اندیشہ نہ ہو تو روزہ توڑنا جائز نہیں ہے اور اگر مذکورہ خطرات کا اندیشہ ہو تو روزہ توڑنا جائز ہے اور ان خطرات پر صبر کر لیتا ہے تو عند اللّٰہ ماجور ہو گا۔

واضح رہے کہ نفلی روزوں میں مذکورہ اعذار کے ساتھ ساتھ ضیافتِ مہمان اور میزبان دونوں کے لیے عذر ہے۔

اگر کسی شخص کے پاس کوئی مہمان آئے اور اس دن وہ شخص (میزبان) نفل روزے سے ہو اور مہمان ایسے ہوں کہ اگر میزبان ان کے ساتھ کھانے میں شریک نہ ہو تو ان کو برا لگے گا۔

اس طرح اگر کوئی شخص کسی کا مہمان بنے یا کوئی شخص اس کی کھانے کی دعوت کرے اور وہ شخص روزے سے ہو اور اس صورت میں اگر یہ شخص کھانا نہ کھائے تو میزبان یا داعی کو برا لگ سکتا ہے تو اس شخص کے لیے نفل روزہ توڑ کر کھانا کھالینے کی گنجائش ہے۔

کوئی گناہ نہیں ہو گا، لیکن اس پر ضروری ہے کہ آئندہ اس کے بدلے یک روزے کی قضا کرے، البتہ اگر اس شخص کو اپنے اوپر اس بات کا اعتماد نہیں کہ وہ آئندہ روزہ رکھ سکے گا یا نہیں تو اسے روزہ نہیں توڑنا چاہیے بلکہ میزبان اور داعی کو معذرت کر دینی چاہیے۔

ضیافت کی صورت میں یہ گنجائش زوال سے پہلے تک کی ہے، زوال کے بعد روزہ توڑنا نہیں چاہیے۔

جہاں تک حیض و نفاس کی بات ہے تو عورت کو حیض و نفاس کی حالت میں روزہ رکھنا جائز ہی نہیں، روزہ رکھنے کے بعد حیض اور نفاس کا خون آنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، مگر رمضان شریف کے بعد اتنے دنوں کی قضا اس پر لازم ہے۔

واضح رہے کہ جان بچانا فرض ہے، اس لیے اگر اپنی جان یا بچے کی جان کا خطرہ ہو تو اس صورت میں روزہ توڑنا فرض اور واجب کے درجے میں ہو گا، ہاں سفر وغیرہ میں جہاں جان کا خطرہ نہیں وہاں روزہ توڑنا جائز ہے۔

البتہ رکھنا بہتر ہے، جہاں تک حیض اور نفاس کی بات ہے تو اگر ان ایام میں روزے آ گئے تو اس میں تو روزہ ہو گا ہی نہیں اور اگر دورانِ روزہ حیض یا نفاس شروع ہو گئے تو روزہ از خود ٹوٹ جائے گا۔

install suchtv android app on google app store