کیا ذیابیطس کے مریض کیلا کھا سکتے ہیں؟ ماہرین کی وضاحت

کیلا ایک عام مگر غذائیت سے بھرپور پھل ہے، لیکن ذیابیطس کے مریضوں کے ذہن میں اکثر یہ سوال ہوتا ہے کہ آیا کیلا ان کے لیے محفوظ ہے یا نہیں۔

ماہرینِ صحت کے مطابق کیلا مکمل طور پر ممنوع نہیں۔ درست وقت، مناسب مقدار اور پکے پن کے مطابق استعمال کیا جائے تو یہ توانائی، فائبر، پوٹاشیم اور وٹامنز فراہم کرتا ہے اور شوگر کے تیز اتار چڑھاؤ کو کم کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔

کیا ذیابیطس کے مریض کیلا کھا سکتے ہیں؟

ماہرین غذائیت کا کہنا ہے کہ کیلے کو مکمل طور پر ترک کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ گلیکیمک کنٹرول (بلڈ شوگر کی سطح) اور علاج کے منصوبے کے مطابق مقدار اور وقت کا تعین ضروری ہے۔

کیلا کھانے کا بہترین وقت

ماہرین کے مطابق کیلا دو اہم کھانوں (دوپہر یا رات کے کھانے) کے ساتھ نہیں کھانا چاہیے کیونکہ ان اوقات میں پہلے ہی کاربوہائیڈریٹس زیادہ ہوتے ہیں، جس سے بلڈ شوگر بڑھ سکتی ہے۔

بہتر ہے کہ کیلا:

صبح کے درمیانی وقت

یا دوپہر کے وقت بطور ہلکا سنیک

کھایا جائے تاکہ جسم اسے توانائی کے طور پر استعمال کر سکے اور شوگر میں اچانک اضافہ نہ ہو۔

کیلے کے پکے پن کا بلڈ شوگر پر واضح اثر ہوتا ہے:

کم پکا یا ہلکا سبز کیلا: نشاستہ زیادہ، شوگر کم — شوگر آہستہ بڑھتی ہے۔

درمیانہ پکا (پیلا) کیلا: معتدل اثر۔

زیادہ پکا یا بھورے دھبوں والا کیلا: شوگر زیادہ — بلڈ شوگر تیزی سے بڑھا سکتا ہے۔

اسی لیے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے کم پکا یا درمیانہ پکا کیلا بہتر سمجھا جاتا ہے۔

ذیابیطس کے مریض درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں:

بلڈ شوگر کی باقاعدہ نگرانی کریں۔

کیلے کو چاول یا روٹی جیسے بھاری کھانوں کے ساتھ نہ کھائیں۔

مقدار کم رکھیں — ایک چھوٹا کیلا یا آدھا کیلا کافی ہے۔

کیلا کھانے کے بعد ہلکی جسمانی سرگرمی مفید ہو سکتی ہے۔

install suchtv android app on google app store