رمضان میں افطار کے بعد پیٹ پھولنا اور سینے میں جلن کیوں ہوتی ہے؟ وجوہات اور احتیاطی تدابیر

ماہِ رمضان میں پورا دن فاقہ کرنے کے بعد افطار کے وقت شدید بھوک محسوس ہونا فطری بات ہے، مگر یہی بھوک اکثر ہمیں ضرورت سے زیادہ اور تیزی سے کھانے پر مجبور کر دیتی ہے، جس کے نتیجے میں پیٹ پھولنا، گیس، تیزابیت اور سینے میں جلن جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

ذیل میں وہ عام وجوہات بیان کی جا رہی ہیں جو رمضان کے دوران نظامِ ہاضمہ کے مسائل کا سبب بنتی ہیں:

 درست غذاؤں سے روزہ نہ کھولنا

اگر افطار کا آغاز تلی ہوئی یا زیادہ تیل والی اشیا سے کیا جائے تو معدے پر اچانک بوجھ پڑتا ہے، جس سے سینے میں جلن اور اپھارہ پیدا ہوسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق روزہ کھجور اور پانی سے کھولنا بہتر ہے۔

  • کھجور بلڈ شوگر کو متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

  • پانی جسم میں پانی کی کمی پوری کر کے معدے کو ہاضمے کے لیے تیار کرتا ہے۔

 بہت تیزی سے کھانا

شدید بھوک کی وجہ سے اکثر لوگ کھانا اچھی طرح چبائے بغیر نگل لیتے ہیں۔
اس سے:

  • زیادہ مقدار میں کھانا کھا لیا جاتا ہے

  • گیس اور اپھارے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

آہستہ اور اچھی طرح چبا کر کھانے سے دماغ کو پیٹ بھرنے کا احساس ہونے کا وقت ملتا ہے اور جسم غذائی اجزا بہتر انداز میں جذب کرتا ہے۔

 تلی ہوئی اور بھاری غذاؤں کا زیادہ استعمال

پکوڑے، سموسے اور دیگر تلی ہوئی اشیا افطار ٹیبل کا لازمی حصہ بن چکی ہیں، مگر ان کا زیادہ استعمال:

  • تیزابیت

  • گیس

  • بدہضمی

  • سستی اور تھکن

کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ یہ نظامِ ہاضمہ پر اضافی بوجھ ڈالتی ہیں۔

 مقدار کا خیال نہ رکھنا

طویل فاقے کے بعد زیادہ کھانے کی خواہش فطری ہے، مگر بسیار خوری معدے کے مسائل کو جنم دیتی ہے۔
افطار میں کم مقدار سے آغاز کرنا اور وقفے سے کھانا بہتر طریقہ ہے۔

 میٹھی اشیا کا زیادہ استعمال

افطار کے بعد زیادہ چینی کا استعمال:

  • بلڈ شوگر میں تیزی سے اضافہ

  • پھر اچانک کمی

  • شدید تھکن

کا باعث بنتا ہے۔
اس کی جگہ پھل، کھجور یا دہی جیسے صحت مند متبادل اختیار کرنا بہتر ہے۔

 

install suchtv android app on google app store