رمضان میں ڈی ہائیڈریشن سے کیسے محفوظ رہیں؟

طویل دورانیے کے روزے جسم میں پانی کی کمی یعنی ڈی ہائیڈریشن کے خطرے کو بڑھا دیتے ہیں۔ فائل فوٹو طویل دورانیے کے روزے جسم میں پانی کی کمی یعنی ڈی ہائیڈریشن کے خطرے کو بڑھا دیتے ہیں۔

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ اپنی روحانیت کے ساتھ ساتھ جسمانی محنت اور صبر کا امتحان بھی ہے۔ روزہ دار اللہ کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں، مگر گرمی کے موسم میں طویل دورانیے کے روزے جسم میں پانی کی کمی یعنی ڈی ہائیڈریشن کے خطرے کو بڑھا دیتے ہیں۔

علی گڑھ میڈیکل کالج کے شعبہ فارماکولوجی کے پروفیسر اور ہیڈ ڈاکٹر سید ضیاء الرحمٰن کا کہنا ہے کہ روزہ ہر مسلمان پر فرض ہے اور ہر طبقے کے لوگ اسے عقیدت کے ساتھ رکھتے ہیں۔

لیکن گرمی میں دھوپ کے اندر کام کرنے والے افراد کو جسمانی صحت کا نظر انداز کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن نے مشورہ دیا کہ سحری کو کسی صورت چھوڑا نہ جائے، کیونکہ یہ سنت بھی ہے اور دن بھر توانائی برقرار رکھنے کا ذریعہ بھی ہے۔

سحری کے وقت ہلکی مگر غذائیت سے بھرپور غذا لینا اور مناسب مقدار میں پانی پینا لازمی ہے۔ کھجور، تازہ پھل یا جوس توانائی بڑھانے اور جسم کو دن بھر کام کرنے کے قابل بنانے میں مددگار ہوتے ہیں۔

پورے دن کی گرمی اور تھکن کے بعد افطار کے وقت جسم کو دوبارہ ہائیڈریٹ کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے شربت، تازہ جوس یا موسمی پھل بہترین ثابت ہوتے ہیں۔

اگر مہنگے مشروبات دستیاب نہ ہوں تو تربوز، خربوزہ، پپیتا جیسے رسیلے پھلوں کی چاٹ بنا کر کھانا بھی مؤثر اور سستا متبادل ہے۔

ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن نے زور دیا کہ گرمی میں زیادہ محنت کرنے والے افراد خاص احتیاط کریں، زیادہ پانی پئیں اور زیادہ دیر دھوپ میں نہ رہیں، تاکہ روزے کی روحانیت کے ساتھ ساتھ صحت بھی محفوظ رہ سکے۔

رمضان نہ صرف روح کی پاکیزگی کا موقع ہے بلکہ جسمانی صحت کا بھی امتحان ہے، اس لیے مناسب غذائیت اور پانی کی مقدار کا خیال رکھنا ہر روزہ دار کے لیے لازم ہے۔

 

install suchtv android app on google app store