ایک ماہرِ صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ دانتوں کے درمیان باقاعدگی سے فلاسنگ (خلال کرنا) 50 سے زائد سنگین بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق دانتوں اور مسوڑھوں کو صحت مند رکھنا دراصل مجموعی صحت کی بنیاد ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ منہ میں پیدا ہونے والی سوزش (انفلیمیشن) جسم کے دیگر حصوں تک پھیل سکتی ہے اور مختلف دائمی امراض کا باعث بن سکتی ہے۔
برطانیہ کے سرکاری ادارے NHS کے اعداد و شمار کے مطابق 41 فیصد بالغ افراد دانتوں کے کیڑا لگنے (ٹوتھ ڈیکے) کا شکار ہیں، جبکہ تقریباً نصف افراد مسوڑھوں کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ مسوڑھوں کی سوزش خون کی نالیوں کے ذریعے دل، دماغ اور دیگر اعضا تک اثر انداز ہوسکتی ہے۔
تحقیقی شواہد کے مطابق مسوڑھوں کی بیماری اور ذیابیطس، ڈیمنشیا (بھولنے کی بیماری) اور امراضِ قلب کے درمیان تعلق پایا جاتا ہے۔ سوزش جسم میں میٹابولک اور قلبی نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔
ماہرین کی تجویز
دن میں دو مرتبہ دانت برش کیے جائیں۔
روزانہ کم از کم ایک بار فلاسنگ کی جائے۔
دانتوں کا باقاعدہ معائنہ کرایا جائے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سادہ عادت نہ صرف مسوڑھوں کی بیماری سے بچاتی ہے بلکہ مجموعی صحت کو بھی بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔