مشرق وسطیٰ کیلئے نام نہاد امن منصوبہ؛ حماس کا سخت رد عمل۔۔۔امریکی امن منصوبہ مسترد

بیت المقدس فائل فوٹو بیت المقدس

منصوبہ فلسطینی قوم کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی نئی چال قرار فلسطینی اتھارٹی اور حماس نے امریکی منصوبے کو مسترد کر دیا، حماس نے مشرقی بیت المقدس اسرائیل کے حوالے کرنے کے بیان کو اشتعال انگیز اور ٹرمپ کے منصوبے کو فضول قرار دیا،، اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے ترجمان نے کہا کہ سنچری ڈیل کبھی نہیں ہو گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے جاری کردہ مشرق وسطیٰ کے نام نہاد امن منصوبہ 'ڈیل آف دی سنچری' پر فلسطینیوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔

فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس اور اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے امریکی امن پروگرام یکسر مسترد کر دیا منصوبے کو فلسطینی قوم کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی نئی چال قرار دیا۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے کہا کہ یہ کوئی امن پروگرام نہیں بلکہ امن کے نام پر فلسطینی قوم سے سے ایک دھوکہ ہے جسے کوئی فلسطینی قبول نہیں کرے گا۔

محمودعباس نے اس منصوبے کو سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم کوئی حق نہیں کہ وہ فلسطینی قوم کے حقوق پر سودے بازی کریں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ منصوبہ "منظور نہیں ہو گا اور دیگر سازشی منصوبوں کی طرح یہ بھی تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا جائے گا۔

صدرعباس نے ہماری حکمت عملی مشرقی یروشلم سمیت فلسطین کے تمام دیگر علاقوں سے اسرائیلی ریاست کے غاصبانہ قبضے کو ختم کرانے کے لیے جاری رہے گی۔

فلسطین کی تمام جماعتوں اور گروپوں نے امریکی صدر کے اس غیر قانونی فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔

تحریک الفتح نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ کے اقدامات نا قابل قبول ہیں،،تمام وسائل بروئے کارلاتے ہوئے ٹرمپ کے اقدامات کے مقابلے میں ڈٹ جائیں گے۔

subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store