متحدہ عرب امارات میں سال 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی مختلف شعبوں سے متعلق متعدد نئی پالیسیاں اور قوانین نافذ کر دیے گئے ہیں۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق یکم جنوری سے آٹھ اہم قوانین اور ضوابط پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے، جن کا تعلق تعلیم، عبادات، صحت، ماحولیات، سفری سہولیات، شہری نظم و ضبط اور ڈیجیٹل معیشت سے ہے۔
نئی پالیسی کے تحت جمعہ کے روز اسکولوں کے اوقات کار کم کر دیے گئے ہیں تاکہ طلبہ اور تعلیمی عملہ بروقت نمازِ جمعہ ادا کر سکے۔
اس فیصلے کا مقصد تعلیمی سرگرمیوں اور مذہبی ذمہ داریوں کے درمیان توازن قائم کرنا بتایا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یو اے ای میں جمعہ کی نماز اور خطبے کے اوقات کو پورے ملک میں یکساں کر دیا گیا ہے، جبکہ جمعہ کی نماز پونے ایک بجے ادا کی جائے گی۔
شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ خطبہ سننے کے لیے بروقت مساجد کا رخ کریں۔
یکم جنوری سے شوگر والے مشروبات پر عائد فلیٹ 50 فیصد ٹیکس ختم کر کے اب شوگر کی مقدار کے مطابق ٹیکس لاگو کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد صحت سے متعلق مسائل پر قابو پانا ہے۔
خیبر پختونخوا: اسکولوں کے لیے 2800 چوکیداروں کی بھرتی کی منظوری
سفری سہولیات کے حوالے سے دبئی ایئرپورٹ پر ریڈ کارپٹ سروس کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
یہ سہولت جو پہلے بزنس کلاس مسافروں تک محدود تھی، اب ٹرمینل 3 پر آنے والے مسافروں کے لیے بھی متعارف کرائی جا رہی ہے، جہاں اسمارٹ گیٹس کے ذریعے امیگریشن کا عمل تیزی سے مکمل کیا جا سکے گا۔
ماحولیاتی تحفظ کے تحت سال 2026 سے ملک بھر میں سنگل یوز پلاسٹک اشیا جیسے کپ، پلیٹیں، کٹلری، اسٹرا اور اسٹائروفوم فوڈ کنٹینرز کی تیاری، درآمد اور فروخت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
دبئی میں پلاسٹک پر پابندی کے آخری مرحلے کے تحت مزید اشیا کو محدود کیا گیا ہے۔
ڈیجیٹل معیشت کے شعبے میں سوشل میڈیا پر اشتہاری مواد کے ذریعے آمدن حاصل کرنے والے کونٹینٹ کریئیٹرز اور انفلوئنسرز کو 31 جنوری 2026 تک یو اے ای میڈیا کونسل سے ایڈورٹائزر لائسنس حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
اسی طرح دبئی کے علاقے ڈسکوری گارڈنز میں پارکونک کے تحت پیڈ پارکنگ کا آغاز کیا جا رہا ہے، جہاں ہر رہائشی یونٹ کو ایک مفت پارکنگ پرمٹ جاری کیا جائے گا۔