پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنصیبات اور سہولتوں کی فہرستوں کا باضابطہ تبادلہ

پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنصیبات اور سہولتوں کی فہرستوں کا باضابطہ تبادلہ ہوا ہے فائل فوٹو پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنصیبات اور سہولتوں کی فہرستوں کا باضابطہ تبادلہ ہوا ہے

نئے سال کے آغاز پر ایک خاموش مگر غیر معمولی سفارتی پیش رفت نے دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی، پاکستان کے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے مابین بنگلادیش میں ہونے والی ہینڈ شیک کے بعدایک اور اہم پیش رفت ہوئی ہے جس میں دونوں ممالک کے درمیان جوہری تنصیبات اور سہولتوں کی فہرستوں کا باضابطہ تبادلہ مکمل کر لیا گیا، جو خطے میں استحکام اور احتیاط کی ایک اہم علامت قراردیا جارہا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا کہ یکم جنوری کو دونوں ممالک کے درمیان نہ صرف جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ ہوا بلکہ نئے سال کے موقع پر قیدیوں کی فہرستیں بھی ایک دوسرے کے حوالے کی گئیں۔

پاکستان نے اپنی تحویل میں موجود 257 بھارتی قیدیوں کی فہرست بھارت کے حوالے کی، جبکہ بھارتی وزارت خارجہ نے پاکستانی قیدیوں کی فہرست نئی دہلی میں موجود پاکستانی ہائی کمیشن کے نمائندے کو فراہم کی۔

ترجمان کے مطابق جوہری تنصیبات سے متعلق فہرستوں کا تبادلہ ایک طے شدہ اور باقاعدہ معاہدے کے تحت کیا جاتا ہے۔

سفارتی ذرائع بتاتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت نے 31 دسمبر 1988 کو اس حساس معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت دونوں ممالک ہر سال یکم جنوری کو اپنی جوہری تنصیبات اور سہولتوں کی تفصیلات ایک دوسرے سے شیئر کرتے ہیں۔

یہ عمل کشیدگی کے ماحول میں بھی ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی ایک اہم مثال سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان نے اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو الگ ملک تسلیم کرنے کے اقدام کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔

install suchtv android app on google app store