جگر پر چربی چڑھنے کا عارضہ اتنا عام ہے کہ دنیا بھر کے 30 فیصد افراد اس سے متاثر ہیں اور اس کے حوالے سے مؤثر علاج بھی موجود نہیں۔ مگر اب ماہرین نے ایک ایسی دریافت کی ہے جو جگر کے اس عام ترین عارضے کے مؤثر علاج کو ممکن بنا سکے گی۔
جنوبی کوریا کی Ulsan یونیورسٹی، Pusan نیشنل یونیورسٹی اور Ulsan یونیورسٹی ہاسپٹل کی مشترکہ تحقیق میں ایک مائیکرو آر این اے 93 کو دریافت کیا گیا جو جگر پر چربی کے عارضے کے پھلاؤ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
یہ پہلی بار ہے جب اس مرکب کو جگر کے اس مرض سے متاثر ہونے اور پھیلاؤ سے منسلک کیا گیا ہے۔
تحقیق میں آر این اے کو غیر معمولی سطح کو جگر پر چربی چڑھنے کے عارضے کے شکار افراد میں دریافت کیا گیا۔
تحقیق کے مطابق اس آر این اے سے جگر میں چربی جمع ہونے، ورم اور دیگر پیچیدگیوں کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔
اس کو بہتر طریقے سے سمجھنے کے محققین نے چوہوں میں اس آر این اے کے بننے کے عمل کو جینیاتی تدوین کے ذریعے روک دیا جس کے نتیجے میں جگر میں چربی جمع ہونے کی رفتار نمایاں حد تک گھٹ گئی جبکہ انسولین کی حساسیت بہتر ہوئی اور جگر کے افعال کو بھی فائدہ ہوا۔
اس کے بعد محققین نے امریکا یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے منظور شدہ 150 ادویات کی جانچ پڑتال کی تاکہ معلوم ہوسکے کہ کیا ان سے آر این اے کی سطح میں کمی آتی ہے یا نہیں۔
انہوں نے دریافت کیا کہ اس حوالے سے وٹامن بی 3 سب سے زیادہ مؤثر آپشن ہے۔
جن چوہوں کا علاج وٹامن بی 3 سے کیا گیا ان میں اس آر این اے کی سطح میں ڈرامائی کمی آئی جبکہ جگر میں چربی گھلنے کا عمل معمول پر آگیا۔
محققین کے مطابق یہ وٹامن کافی عام ہے اور پہلے سے منظور شدہ ہے تو اس سے جگر کے اس عام ترین عارضے کے مؤثر علاج میں مدد مل سکے گی جس کا ابھی کوئی مؤثر علاج دستیاب نہیں۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل میٹابولزم میں شائع ہوئے۔
خیال رہے کہ جگر پر چربی چڑھنے کا مرض ایک دائمی عارضہ ہے جس کا سامنا دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو ہوتا ہے۔
عام طور پر اس بیماری کے لیے نان الکحلک فیٹی لیور ڈیزیز کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے اور یہ جگر کے امراض کی عام ترین قسم ہے۔
اس بیماری کے دوران جگر بہت زیادہ مقدار میں چربی ذخیرہ کرنے لگتا ہے اور اس کا علاج نہ ہو تو اس کے افعال تھم جاتے ہیں۔
جگر کی اس بیماری کے نتیجے میں میٹابولک امراض جیسے ذیابیطس ٹائپ 2 اور موٹاپے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
صحت مند جگر میں چربی کی مقدار بہت کم ہوتی ہے اور اس میں معمولی اضافے کو بھی بیماری تصور کیا جاتا ہے۔