پیاز دنیا کی سب سے عام مگر ضروری سبزیوں میں شمار ہوتی ہے، جس کے بغیر تقریباً ہر کھانے کا ذائقہ ادھورا لگتا ہے۔ تاہم، جتنا لذیذ یہ سبزی کھانے میں لگتی ہے، اسے کاٹنا اتنا ہی تکلیف دہ تجربہ بن جاتا ہے، کیونکہ پیاز کاٹتے ہی آنکھوں میں جلن اور بے اختیار آنسو بہنا شروع ہو جاتے ہیں۔
امریکا کی کارنیل یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق اگر پیاز کو کاٹنے سے پہلے اس پر ہلکی سی تیل کی تہ لگا لی جائے یا تیز دھار چھری سے آہستگی سے کاٹا جائے، تو آنکھوں میں جلن اور آنسو بہنے سے بچا جا سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق پیاز کے خلیات جب چھری سے دبائے جاتے ہیں تو ان سے سلفر والے کیمیکلز کی چھوٹی بوندیں فضا میں نکلتی ہیں، جو آنکھوں تک پہنچ کر جلن پیدا کرتی ہیں۔
تحقیق میں پہلی بار واضح کیا گیا کہ چھری پیاز کے خلیات کو چیرتے وقت ان سے مائع بوندیں 11 سے 89 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے خارج ہوتی ہیں۔
کند چھری یا تیزی سے کاٹنا اس مقدار کو بڑھا دیتا ہے، جس سے آنکھوں میں زیادہ جلن ہوتی ہے۔
محققین نے تیز رفتار کیمروں اور کمپیوٹر ماڈلز کی مدد سے یہ عمل تفصیل سے سمجھا اور بتایا کہ اگر چھری تیز ہو اور پیاز کو آہستگی سے کاٹا جائے تو اشک آور مرکبات کی مقدار کم رہتی ہے، جس سے آنکھیں محفوظ رہتی ہیں۔
یہ تحقیق سائنسی جریدے پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمیز آف سائنس میں شائع ہوئی، اور اب گھر کے شیف اور باورچی حضرات کے لیے یہ خبر خوش آئند ہے، کیونکہ شاید پہلی بار پیاز کاٹنا بغیر آنسوؤں کے ممکن ہو گیا ہے۔