بچوں کو بھوک بڑھانے کی دوا دینے سے پہلے سوچیں، ماہرین

پیڈیاٹرک ماہر ڈاکٹر روی ملک گپتا کے مطابق “انڈین اور امریکن اکیڈمی آف پیڈیئٹرکس” بچوں کو بھوک بڑھانے والی دوائیں دینے کی سخت مخالفت کرتی ہیں فائل فوٹو پیڈیاٹرک ماہر ڈاکٹر روی ملک گپتا کے مطابق “انڈین اور امریکن اکیڈمی آف پیڈیئٹرکس” بچوں کو بھوک بڑھانے والی دوائیں دینے کی سخت مخالفت کرتی ہیں

بچوں میں بھوک کی کمی ایک عام مسئلہ ہے، خاص طور پر زیادہ فعال یا متحرک بچے اکثر کم کھاتے ہیں۔ والدین کئی طریقے آزمانے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جن میں بھوک بڑھانے والی ادویات کا استعمال بھی شامل ہے۔

پیڈیاٹرک ماہر ڈاکٹر روی ملک گپتا کے مطابق “انڈین اور امریکن اکیڈمی آف پیڈیئٹرکس” بچوں کو بھوک بڑھانے والی دوائیں دینے کی سخت مخالفت کرتی ہیں، کیونکہ یہ ادویات محض عارضی اثر دیتی ہیں اور طویل مدت استعمال سے خطرناک سائیڈ افیکٹس پیدا ہو سکتے ہیں۔

اکثر ان ادویات میں شامل “سائپروہپٹادین” بچوں کے لیے خطرناک ہے، جس کے نتیجے میں سر درد، چڑچڑاپن، الجھن، چکر، الرجی اور جگر کو نقصان پہنچنے کے امکانات ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر گپتا نے والدین کو مشورہ دیا کہ بھوک بڑھانے کے لیے قدرتی اور محفوظ طریقے اپنائیں، جیسے:

متنوع اور مزیدار کھانے تیار کرنا

بچوں پر کھانے کے لیے دباؤ نہ ڈالنا

کھانے کے دوران ٹی وی یا فون سے دور رکھنا

ان طریقوں سے بچے کی صحت اور کھانے میں دلچسپی دونوں برقرار رکھی جا سکتی ہے۔

ڈاکٹر گپتا کا کہنا ہے کہ بچوں کا کھانے کے ساتھ تعلق اچھا بنانا ضروری ہے تاکہ وہ قدرتی طور پر صحت مند کھانے کی عادت اپنائیں اور دواؤں سے بچیں۔ بچے کو آرام دہ اور خوشگوار ماحول میں کھانا کھلائیں۔

بعض اوقات بچوں میں کم بھوک کا سبب نیند کی کمی بھی ہو سکتی ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ بچے مناسب نیند لیں، تاکہ ان کی جسمانی ضروریات پوری ہو سکیں اور وہ کھانے میں دلچسپی دکھائیں۔

اگر بچے کی بھوک کی کمی مستقل مسئلہ بن جائے، تو والدین کو ماہر بچوں کے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر مکمل جانچ کر بچے کی صحت کی مکمل تصویر فراہم کر سکتا ہے اور بھوک کی کمی کے پیچھے کی وجہ معلوم کر سکتا ہے۔

install suchtv android app on google app store