صدیوں سے انسانی معاشرے میں گروپ کی شکل میں کھانے کا رواج جاری ہے، اور اس روایت کی اہمیت صرف جسمانی ضرورت تک محدود نہیں بلکہ سماجی اور نفسیاتی تعلقات میں بھی پوشیدہ ہے۔ ماہرین کے مطابق، جب لوگ ایک ساتھ کھاتے ہیں تو یہ نہ صرف توانائی کا ذریعہ ہوتا ہے بلکہ تعلقات کو مستحکم کرنے اور ایک دوسرے کو قریب لانے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔
کھانے کے دوران افراد اپنے تجربات شیئر کرتے ہیں اور اجتماعی سکونت کا احساس حاصل کرتے ہیں، جو قدیم زمانے کی طرح آج بھی اہم ہے۔
برطانوی تحقیق کے مطابق، باقاعدگی سے دوسروں کے ساتھ کھانے والے افراد کی زندگی میں زیادہ اطمینان اور مضبوط دوستیاں پائی جاتی ہیں جن پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔
پروفیسر روڈریگ ڈنبار نے کہا کہ گروپ میں کھانے سے دماغ کے اینڈورفین سسٹم کو متحرک کیا جاتا ہے، جس سے تعلقات مضبوط ہوتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایک ساتھ کھانے والے افراد ایک دوسرے کو زیادہ قابل اعتماد سمجھتے ہیں۔
تاہم، بعض اوقات کھانے کا عمل طاقت کی علامت بھی بن جاتا ہے، جیسے زمین دار یا آفس کے مالک کی سخاوت یا کمی کو گروپ کے افراد کے ذریعے پرکھا جانا۔
اس کے علاوہ، خاندانوں میں باقاعدگی سے کھانے بھی ہمیشہ خوشگوار نہیں ہوتے، جہاں کسی کا مقام یا فیصلہ بار بار تنقید کا شکار ہوتا ہو، وہاں یہ تجربہ تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔
اگرچہ زیادہ تر لوگ دوسروں کے ساتھ کھانا کھانے کو پسند کرتے ہیں، لیکن کچھ افراد اکیلے کھانے کو بھی اتنا ہی آرام دہ سمجھتے ہیں۔
نیومن کے جاری تحقیقی منصوبوں میں، سوئیڈن کے بزرگوں کے درمیان اکیلے کھانے کے بارے میں دلچسپ نتائج سامنے آئے ہیں۔
ان میں سے بیشتر بزرگوں نے کہا کہ انہیں اکیلے کھانے میں کوئی خاص پریشانی نہیں ہوتی۔ نیومن کے مطابق، ”اگر آپ عموماً دوسروں کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں، تو کبھی کبھار اکیلے بیٹھ کر کھانا کھانا بھی ضروری ہوتا ہے۔“
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کھانے کا تجربہ ہمیشہ اجتماعی طور پر بہترنہیں ہوتا، کبھی کبھار یہ وقت خود کو ری چارج کرنے اور ذاتی سکون حاصل کرنے کا وقفہ بھی ہوتا ہے۔