2026میں دنیاکے خاتمے کے حوالے سے ہونےوالی پیشگوئی کے بعد سنسنی خیز پوسٹس نے ٹک ٹاک، ٹویٹر اور یوٹیوب پر لاکھوں صارفین کی توجہ حاصل کر لی ۔
سال 2025 کے اختتام سے ہی سوشل میڈیا پر یہ دعوے تیزی سے وائرل ہو رہے ہیں کہ دنیا 2026 میں ختم ہو جائے گی، ٹک ٹاک، ٹویٹر اور یوٹیوب پر سنسنی خیز پوسٹس اور ویڈیوز نے لاکھوں صارفین کی توجہ حاصل کر لی۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آخر ان قیامت خیز پیش گوئیوں کی حقیقت کیا ہے اور 2026 کو انسانیت کے خاتمے کا سال کیوں قرار دیا جارہا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ 2026 میں دنیا کے خاتمے کا یہ دعویٰ مکمل طور پر بےبنیاد ہے اور اس کی کوئی سائنسی توثیق موجود نہیں ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ نظریہ دراصل پرانے اور غیر مصدقہ نظریات ، انتہا پسندانہ پیش گوئیوں اور عالمی سطح پر پائی جانے والی بے چینی کا مجموعہ ہے۔
اس وائرل رحجان کی بنیاد جرمن نژاد سائنسدان ہائنز وان فورسٹرکے 1960 کی دہائی کے ماڈل کو قرار دیا جاتا ہے، اس نظریے کے مطابق انسانی آبادی 2026 تک اس حد تک بڑھ سکتی ہے جہاں اس کا برقرار رہنا مشکل ہو جائے گا۔
ایک اور وجہ ریٹائرڈ امریکی ماہر ماحولیات گائی میکفرسن کی پیش گوئیاں ہیں جو طویل عرصے سے یہ موقف اختیار کرتے آرہے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث زمین تباہی کے دہانے پر ہے، اگرچہ انہوں نے انسانی تہذیب کے ممکنہ زوال کی بات کی ہے، تاہم ان کے بعض حامیوں نے 2026 کو علامتی طور پر انسانیت کے خاتمے کا سال قرار دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے اگرچہ 2026 میں دنیا کے خاتمے کا کوئی حتمی ثبوت موجود نہیں ہےتاہم لوگ ماحولیاتی تبدیلی، قدرتی وسائل کی کمی ، بڑھتی ہوئی آبادی ، ٹیکنالوجی سے جڑے خطرات اور عالمی کشیدگی جیسے عوامل کو کسی بڑے بحران سے جوڑ رہے ہیں، نفسیاتی اورمعاشی عوامل نے ان افواہوں کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ٹک ٹاک ، انسٹاگرام ، ٹویٹر اوریوٹیوب جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مواد تیزی سے پھیلتا ہے اور بار بار شیئر کی جانے والی پوسٹ لوگوں میں اس غلط فہمی کو مزید تقویت دیتی ہے کہ دنیا واقعی 2026 میں ختم ہو سکتی ہے۔
ماہرین واضح کرتے ہیں کہ ایسی خبروں پر یقین کرنے کی بجائے مستند سائنسی ذرائع اورحقائق پر توجہ دینا ضروری ہے کیونکہ خوف اور افواہوں کا پھیلا ؤ خود ایک بڑا سماجی مسئلہ بن چکا ہے۔