فالج زدہ افراد کے لیے خوشخبری، ایلون مسک کی کمپنی نے دماغی چپ بنا ڈالی

ایلون مسک کی دماغی چپ فائل فوٹو ایلون مسک کی دماغی چپ

ایلون مسک نے ٹیکنالوجی کے میدان میں جدید انقلاب کی جانب ایک اور قدم بڑھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ان کی کمپنی ’نیورا لِنک‘ اب دماغی چپ کے ذریعے صارفین کو اپنے خیالات سے کمپیوٹر کے براہِ راست رابطے کی عملی سہولت فراہم کررہی ہے، یہ پیش رفت خصوصاً ان افراد کے لیے امید کی نئی کرن ہے جو شدید معذوری یا فالج کی وجہ سے جسمانی کنٹرول سے محروم ہیں۔

نیورالنک کا بنیادی تصور ایسا برین کمپیوٹر انٹرفیس (بی سی آئی) ہے جو انسانی دماغ میں نصب ہو کر صرف خیال کے ذریعے کمپیوٹر، موبائل، وہیل چیئر یا روبوٹ جیسے آلات کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت دے۔

مسک کے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پرتازہ اعلان کے مطابق کمپنی 2026 میں برین چِپس کی ہائی والیوم پروڈکشن شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، تاکہ یہ ٹیکنالوجی تجرباتی لیبز سے نکل کر زیادہ تعداد میں مریضوں تک پہنچ سکے۔

ان کے مطابق اگلے مرحلے میں سرجری کا پورا عمل اس حد تک خودکار ہو جائے گا کہ چپ امپلانٹ کروانا ایک تیز، معیاری اور نسبتاً سستا عمل بن جائے گا۔

۔
نیورالنک کی متعارف کردہ اہم تکنیکی تبدیلیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اب الیکٹروڈ تھریڈز دماغ کے بیرونی حفاظتی غلاف یعنی ڈیورا، کو مکمل طور پر کاٹے بغیر اس میں سے گزر سکیں گے۔

روایتی نیورو سرجری میں اکثر ڈیورا کو جزوی یا مکمل ہٹایا جاتا ہے، جو انفیکشن، خون بہنے اور دیگر پیچیدگیوں کے امکانات بڑھا دیتا ہے۔ نیورا لِنک کا دعویٰ ہے کہ ڈیورا برقرار رکھتے ہوئے اس میں سے باریک الیکٹروڈ گزارنا سرجری کو آسان اور ممکنہ طور پر زیادہ محفوظ بنا سکتا ہے۔

یہ تبدیلی مستقبل میں اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ دماغی امپلانٹس کسی بڑے آپریشن کے بجائے انتہائی باریک، مشینی طور پر کنٹرولڈ انسرشن تک محدود ہو جائیں، جہاں انسانی ہاتھ کا عمل دخل کم سے کم ہو۔

2025 میں مریضوں کے تجربات بتاتے ہیں کہ نیورا لِنک کو امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈ منسٹریشن (FDA) سے اسپیچ ریسٹوریشن ٹیکنالوجی کے لیے بریک تھرو ڈیوائس کا درجہ ملا، جو بولنے کی شدید معذوری کے شکار افراد کے لیے خصوصی طور پر ڈیزائن کی جا رہی ہے۔

کمپنی

install suchtv android app on google app store