انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ اگر بنگلہ دیش نے بھارت جا کر 2026 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز کھیلنے سے انکار جاری رکھا تو اسے ٹورنامنٹ سے نکال کر کسی اور ٹیم کو شامل کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی سی سی نے بی سی بی کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے پر بنگلہ دیشی حکومت کو اعتماد میں لے اور فوری طور پر اپنا حتمی مؤقف آئی سی سی کو بتائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی سی سی بورڈ میں اس معاملے پر ووٹنگ بھی ہوئی، جس میں بورڈ کی اکثریت نے بنگلہ دیش کی جگہ متبادل ٹیم شامل کرنے کی حمایت کی۔ بی سی بی کو اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لیے ایک دن کی مہلت دی گئی ہے، جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
اگر بنگلہ دیش کو ٹورنامنٹ سے ہٹایا گیا تو اسکاٹ لینڈ کو گروپ سی میں شامل کیے جانے کا امکان ہے، حالانکہ اسکاٹ لینڈ 2026 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے براہِ راست کوالیفائی نہیں کر سکا تھا اور یورپی کوالیفائر میں نیدرلینڈز، اٹلی اور جرسی سے پیچھے رہا تھا۔
دوسری جانب آئی سی سی بورڈ کا اہم اجلاس شروع ہو چکا ہے، جس میں تمام فل ممبر ممالک کے ڈائریکٹرز شریک ہیں۔
اجلاس میں آئی سی سی چیئرمین جے شاہ، بی سی بی صدر امین الاسلام، بی سی سی آئی سیکریٹری دیواجیت سائیکیا، پی سی بی چیئرمین محسن نقوی سمیت دیگر ممالک کے کرکٹ بورڈز کے سربراہان اور نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔
آئی سی سی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام اور ایسوسی ایٹ ممبرز کے نمائندے بھی اجلاس کا حصہ ہیں۔
ذرائع کے مطابق آئی سی سی کی جانب سے تیار کردہ ایک آزاد سیکیورٹی ایجنسی کی رپورٹ میں بھارت میں کھیلنے والی ٹیموں کے لیے سیکیورٹی خدشات کو درمیانے سے قدرے زیادہ درجے کا قرار دیا گیا ہے، تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی بھی ٹیم کے خلاف براہِ راست خطرے کی کوئی مصدقہ اطلاع موجود نہیں۔
بنگلہ دیش کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے گروپ سی میں شامل کیا گیا ہے اور اس کے میچز 7، 9 اور 14 فروری کو کولکتہ جبکہ آخری گروپ میچ 17 فروری کو ممبئی میں شیڈول ہیں۔ معاملے پر حتمی فیصلہ آئی سی سی کے موجودہ اجلاس میں متوقع ہے۔