ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں ہفتے کی رات لگنے والی آگ پر بالآخر قابو پالیا گیا، آتشزدگی کے سبب عمارت کا 40 فیصد حصہ منہدم ہوگیا، دم گھٹنے اور جھلس کر جاں بحق افراد کی تعداد 26 ہوگئی، ملبہ ہٹانے اور لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ لاپتہ افراد کی فہرست 81 تک پہنچ گئی ہے۔
ریسکیو اہلکار 40 گھنٹوں بعد گل پلازہ کی عمارت میں داخل ہوگئے اور موجود افراد کی تلاش میں آپریشن شروع کر دیا، پہلی منزل پر لاشوں کی تلاشی کا کام مکمل ہوگیا اور اب دوسری منزل پر زندہ یا مردہ افراد کی تلاش جاری ہے۔
دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی جس پر فائر بریگیڈ کی گاڑی نے پھر سے پانی برسانا شروع کردیا۔ جسے تھوڑی دیر بعد کنٹرول کر لیا گیا۔
ترجمان ریسکیو 1122 (سندھ) کے مطابق اہلکار عمارت کے بیشتر حصوں میں داخل ہو چکے ہیں اور سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ریسکیو اہلکار جہاں تک جاسکتے تھے وہاں کی جانچ کرلی، سیڑھی ہٹالی گئی، ریسکیو اہلکار نیچے اتر آئے۔ گل پلازہ میں اندھیرا ہونے کے باعث ریسکیو اہلکار ٹارچ کے ذریعے عمارت میں موجود شہریوں کو تلاش کر رہے ہیں۔
ریسکیو عملے کے افراد کو عمارت کے اندر انسانی اعضا مل رہے ہیں جبکہ لاشیں نکالنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
میئر کراچی مرتضی وہاب کا جائے حادثہ کا دورہ
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب ریسکیو آپریشن کی نگرانی کے لیے خود رات گئے گل پلازہ پہنچ گئے۔
اس موقع پر انہوں نے ہدایت کی کہ ہر صورت میں ریسکیو آپریشن مکمل کیا جائے اور متاثرین کی تلاش کے عمل کو مزید تیز کیا جائے۔
میئر کراچی نے کہا کہ جب تک تمام لاپتہ افراد کا سراغ نہیں مل جاتا اور ریسکیو آپریشن مکمل نہیں ہوتا، بلدیہ عظمیٰ کراچی کے تمام محکمے الرٹ رہیں گے۔
ریسکیو اور کلیئرنس آپریشن کے تحت عمارت کی چھت سے گاڑیاں اتارنے کا عمل شروع
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر مزید ہیوی مشینری موقع پر پہنچا دی گئی، جبکہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے عملے نے کرینز کے ذریعے مرحلہ وار گاڑیوں کو نیچے اتارنا شروع کر دیا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق اب تک گل پلازہ کی چھت سے مجموعی طور پر 32 گاڑیاں محفوظ طریقے سے نیچے اتار لیے گئے ہیں۔
اتاری جانے والی گاڑیوں میں 16 کاریں، 4 سوزوکی، 12 موٹر سائیکل اور 1 رکشہ شامل ہے۔
اتاری جانے والی گاڑیاں محفوظ حالت میں ان کے مالکان کے حوالے کر دی گئیں، جنہوں نے گاڑیاں خود چلا کر محفوظ مقام پر منتقل کیں۔
13 لاشوں کی شناخت ہوچکی، 75 افراد لاپتا ہوئے ہیں، کمشنر کراچی
کمشنر کراچی حسن نقوی نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ سانحہ گل پلازہ میں 26 افراد کی لاشیں ملی ہیں جن میں 13 لاشوں کی شناخت ہوچکی ہے، کچھ لاشوں کا ڈی این اے کروائیں گے جس کے بعد باقی لاشوں کی شناخت سامنے آئے گی تاحال 75 افراد لاپتا ہونے کی رپورٹ درج کرائی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آگ کی شدت بہت زیادہ تھی میں نے اپنی زندگی میں ایسی آگ نہیں دیکھی انکوائری کمیٹی نے تحقیقات شروع کردی ہیں ہم شواہد اکٹھے کررہے ہیں، دو چار دن میں مزید شواہد سامنے آئیں گے ابھی ہمارا فوکس ریسکیو آپریشن پر ہے انکوائری میں جو سامنے آئے گا سب کو بتائیں گے ہم کسی کو ذمے دار نہیں ٹھہرا رہے اگر کوئی کرمنل حرکت کے شواہد ملے تو سخت کارروائی ہوگی۔
بلڈنگ کو گرانے یا نہ گرانے کا فیصلہ ایس بی سی اے کی ٹیم کریگی، ڈپٹی کمشنر ساؤتھ
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید بنی کھوسہ نے بتایا کہ گل پلازہ عمارت کے مخدوش ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ٹیم کرے گی، یہ ٹیم ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد کرے گی اس کے بعد عمارت کے انفراسٹرکچر کے حوالے سے فیصلہ ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ ریسیکو آپریشن کو مکمل ہونے میں وقت لگے گا، عمارت کے گرنے والے حصے کا ملبہ اٹھانے کا کام شروع کردیا گیا ہے، 70 سے زائد افراد کے لاپتا ہونے کے حوالے سے ان کے اہل خانہ نے ضلعی انتظامیہ سے رجوع کیا ہے، ہماری کوشش ہے کہ لاپتا افراد کو جلد ازجلد تلاش مل جائیں، نقصانات کے جائزے کا کام سندھ حکومت کی ہدایات کی روشنی میں ریسیکو آپریشن کے بعد شروع کیا جائے گا۔
ایک دکاندار ایکسیویٹر اور ڈرلنگ مشین لے آیا، انتظامیہ نے روک دیا
ایک دکاندار نے اپنی دکان تک پہنچنے کے لیے ایک ایکسیویٹر اور ڈرلنگ مشین استعمال کیا تاہم انتظامیہ نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے مشین کو ہٹادیا۔
دکاندار رحمت اللہ نے بتایا کہ مشین لانے کا مقصد صرف دکان تک پہنچنے کا راستہ بنانا تھا، دکان میں ان کے دو بھتیجے، کوئٹہ سے آنے والا مہمان اور ملازمین موجود تھے۔
ادھر انتظامیہ کا موقف تھا کہ مشین کے ذریعے ڈرل کرنے سے عمارت کے ڈھانچے کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، اس لیے مشین کو کام کرنے سے فوری طور پر روکا گیا اور جائے وقوعہ سے ہٹادیا گیا۔
نوجوان اندھیرے میں دیواریں ٹٹولتا ہوا باہر آنے میں کامیاب
ایک نوجوان شدید دھویں کے باوجود دیواریں ٹٹولتا ہوا عمارت سے باہر آنے میں کامیاب تو ہوگیا مگر پھر بے ہوش ہوگیا اور اس کی آنکھ اسپتال میں کھلی۔
بات چیت کرتے ہوئے نوجوان سروائیور خالد نے بتایا کہ وہ لمحات زندگی اور موت کے درمیان ایک کشمکش کی مانند تھے جہاں ہر طرف صرف دھواں اور لوگوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ آگ لگی، دھواں پھیلا اور پھر بجلی گئی، کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔
اس نے بتایا کہ دم گھٹنے کی وجہ سے لوگ نڈھال ہو رہے تھے اور باہر نکلنے کا کوئی راستہ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔
خالد نے بتایا کہ اس وقت دکان میں اس کے دو بھائی نعمت اور عبداللہ، کوئٹہ سے آنے والا کزن یوسف، تین ملازمین اور کچھ خریدار بھی موجود تھے، وہ اپنے ایک بھائی زبیر کے ساتھ باہر نکلا اور دیواریں ٹٹولتا ہوا باہر کی جانب بڑھا، اس وقت سانس لینے میں بہت مشکل ہورہی تھی مگر کسی نہ کسی طرح عمارت سے باہر آنے میں کامیاب تو ہوگیا مگر پھر اسے ہوش نہیں رہا، بعد میں اس کی آنکھ اسپتال میں کھلی۔
اس نے بتایا کہ گل پلازہ میں ان کی میز نائن فلور پر 144 نمبر کی دکان تھی۔ خالد نے بتایا کہ وہ گل پلازہ کے باہر اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ موجود ہے اور اندر رہ جانے والے بھائیوں کا منتظر ہے۔
بیک وقت تین جگہ آپریشن جاری، حتمی ہلاکتوں کی تعداد فی الحال نہیں بتاسکتے، 1122
ریسکیو 1122 کے چیف آپریٹنگ آفیسر ڈاکٹر عابد جلال الدین شیخ کے مطابق حادثے کے مقام پر 5 مختلف نشاندہی شدہ مقامات پر بیک وقت 3 سرچ آپریشنز جاری ہیں، ایک خصوصی ٹیم مسلسل فائر فائٹنگ اور کولنگ کے عمل میں مصروف ہے تاکہ آپریشن کے دوران محفوظ ماحول برقرار رکھا جا سکے، ملبہ ہٹانے کے لیے بھاری وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔
چیف آپریٹنگ آفیسر کے مطابق عمارت کا اسٹرکچر شدید حد تک متاثر ہوچکا ہے اور کسی بھی گرنے کا خدشہ ہے، آپریشن مرحلہ وار، محدود اور انتہائی مہارت کے ساتھ انجام دیا جا رہا ہے۔
متعدد لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں تاہم لاشوں کی حتمی تعداد فی الحال بیان نہیں کی جا سکتی، بعض لاشیں مختلف مقامات سے حصوں کی صورت میں ملی ہیں۔
جب تک تکنیکی اور فرانزک تصدیق کے ذریعے یہ تعین نہیں ہو جاتا کہ یہ اعضا ایک ہی فرد کے ہیں یا مختلف افراد کے، اس وقت تک درست تعداد کی تصدیق مشکل ہے۔
اسی طرح چیف فائر آفیسر کا کہنا ہے کہ ملبہ کلیئر کرنے میں 15 سے 17 دن لگ سکتے ہیں، عمارت کا موجودہ حصہ خطرناک ہے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، آپریشن کے دوران لاشیں نکلنے کا سلسلہ بھی جاری ہے جبکہ ناقابل شناخت لاشوں کو امانتاً ایدھی سرد خانے میں رکھوا دیا گیا ہے۔
چیف فائر آفیسر ہمایوں احمد نے میڈیا سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گل پلازہ میں مرکزی آگ کو مکمل طور پر بجھا دیا گیا ہے، اور اس وقت کولنگ کا عمل چل رہا ہے۔
اس سے قبل آج صبح بروز پیر کے مطابق گل پلازہ میں لگنے والی آگ پر 36 گھنٹے گزرنے کے باوجود تاحال مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکا تھا، عقبی حصے کی طرف سیکنڈ فلور اور گراؤنڈ فلور میں اب بھی آگ لگی ہوئی ہے۔
گل پلازہ کی عقبی سائیڈ پر فائر بریگیڈ کی تمام گاڑیوں نے کام بند کر دیا، کیونکہ آگ بجھانے کے عمل کے دوران عمارت سے آوازیں آنا شروع ہو گئی ہیں۔
فائر بریگیڈ کے مطابق عمارت مکمل طور پر خستہ حال ہو چکی ہے اور اس کے گرنے کا خدشہ ہے اسی لیے فائر فائٹنگ روک دی گئی ہے، صرف ملبے کو ہٹایا جا رہا ہے۔
کراچی ایم اے جناح روڈ پر واقع معروف شاپنگ سینٹر گل پلازہ میں ہفتے کی رات سوا دس بجے آگ بھڑک اٹھی جو بڑھتی ہی چلی گئی، فائربریگیڈ کی گاڑیاں بڑی تعداد میں پہنچیں مگر آگ بڑھتی ہی رہی، آتشزدگی سے عمارت کے دو حصے گر گئے۔
چیف فائر آفیسر ہمایوں نے بتایا تھا کہ گل پلازہ میں لگنے والی آگ پر 80 فیصد قابو پا لیا گیا ہے اور کئی مقامات پر اگ کے شعلے تھم گئے، فائر اینڈ ریسکیو رضاکاروں کو اندر بھیجنا شروع کر دیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے حوالے سے بتایا کہ پولیس نے 59 افراد کی مسنگ پر مختلف لوگوں سے رابطہ کیا اور تمام افراد کے ان کی فیملیز سے موبائل نمبر حاصل کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب تک 26 افراد کی لوکیشن گل پلازہ کے پاس ملی، مزید افراد کی لوکیشن کی اسکرونٹی کررہے ہیں اور پولیس موبائل نمبرز پر مزید کام کر رہی ہے۔
اسپتالوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق دھوئیں سے حالت غیر ہونے والے افراد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا، دو فائر فائٹرز ارشاد اور بلال زخمی ہوئے جو پی این ایس شفا میں زیر علاج ہیں، مجوعی طور پر تیس افراد زخمی ہوئے جن میں سے 13 برنس سیںٹر، پندرہ اس کے ٹراما سینٹر میں اور دو جناح اسپتال لائے گئے۔
ریسکیو حکام کی جانب سے جاں بحق اور زخمی افراد کی فہرست جاری
ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں کاشف ولد یونس (40 سال)، فراز ولد ابرار (55 سال)، محمد عامر ولد نامعلوم (30 سال)، فرقان ولد شوکت علی (25 سال) سمیت 5 دیگر افراد شامل ہیں جن کی لاشوں کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی۔
زخمی اور متاثرہ افراد میں حسیب ولد وسیم (25 سال)، وسیم ولد سلیم (20 سال)، دانیال ولد سراج (20 سال)، صادق ولد نامعلوم (35 سال)، حمزہ ولد محمد علی (22 سال)، رحیم ولد گل محمد (25 سال)، فہد ولد محمد ایوب (20 سال)، جواد ولد جاوید (18 سال)، ایان ولد نامعلوم (25 سال)، عبداللہ ولد ظہیر (20 سال)، عثمان ولد اصغر علی (20 سال)، فہد ولد حنیف (47 سال)، زین ولد عبداللہ (23 سال)، نادر ولد نامعلوم (50 سال) اور دیگر شامل ہیں۔
لاپتا افراد کے ناموں کی فہرست سامنے آگئی
قبل ازیں ڈپٹی کمشنر کو لوگوں نے شکایات درج کرائی تھیں کہ 56 افراد لاپتا ہیں جبکہ صدر گل پلازا تاجر ایسوسی ایشن کے مطابق 80 سے 100 افراد عمارت میں موجود ہوسکتے ہیں تاہم ڈی آئی جی ساؤتھ نے بتایا کہ 59 افراد لاپتا ہیں جن کی تفصیلات حاصل کرلی گئی ہیں۔
55 سے زائد افراد کیلئے لوگوں نے ہم سے رابطہ کیا ہے، فیصل ایدھی
ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے کہا ہے کہ عمارت میں 55 سے زائد افراد لاپتا ہیں جن کے ورثاء نے ہم سے رابطہ کیا ہے، فائرفائٹر اپنی جانوں کی قربانی دیکر آگ بجھانے اور لوگوں کو بچانے کی کوشیش کررہے ہیں، عوام سے گزارش ہے پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں عمارت سے دور ہیں۔
تاجروں کے نقصانات کا ازالہ کریں گے، وزیراعلیٰ سندھ کا دورہ
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازا کا دورہ کیا۔ میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ لوگ یہاں خریداری کرنے آتے ہیں، آج کل شادیوں کا سیزن ہے، کل رات 10بجے کے بعد یہاں آگی لگنے کی اطلاع ملی، ہماری میونسپل اتھارٹیز نے فوری ریسپانس کیا اور مجھے اطلاع دی۔
10 بج کر 27 منٹ پر یہاں پہلا فائر ٹینڈر پہنچا، آگ بجھانے کی کارروائی شروع ہوئی، تقریباً 26 فائر ٹینڈرز، چار اسنارکل اور 10 باؤزر نے حصہ لیا، کے ایم سی کے علاوہ پاکستان نیوی نے بھی اپنا ایک اسنارکل دیا؛ سول ایوی ایشن اتھارٹی سے بھی 3 آگ بجھانے کی مشینیں آئیں لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہ ابھی تک کی معلومات کے مطابق 6 لوگوں کی جانیں گئی ہیں جس میں ایک کے ایم سی کا فائرفائٹر بھی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 22 لوگ زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد دی گئی، افسوس کی بات یہ ہے کہ 58 یا 60 سے بھی زائد افراد لاپتا ہیں، اللہ تعالیٰ اُن کو زندگی دے، یہ بیسمنٹ گراؤنڈ اور تین منزلہ عمارت تھی، یہاں تقریباً ایک ہزار سے زائد دکانیں تھیں۔
جس طریقے سے آگ لگی ہے ابھی حتمی طورپر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، کچھ کہتے ہیں کہ کسی ایک دکان میں شارٹ سرکٹ کے بعد یہ آگ لگی اور وہاں ایسا میٹریل موجود تھا کہ جس کی وجہ سے آگ فوری پھیل گئی، فائر فائٹرز کو اندر جانے کی جگہ نہیں مل رہی تھی جس کی وجہ سے نقصانات میں اضافہ ہوا۔
ایک سوال پر انہوں ںے کہا کہ وزیراعظم صاحب نے مجھ سے ذاتی طور پر رابطہ نہیں کیا، ہوسکتا ہے حکومت سے کیا ہو، مجھے جلدی آنا چاہیے تھا مگر افسوس کہ میں یہاں موجود نہیں تھا، میں تقریباً 5 بجے کے قریب شہر آیا ہوں، میں تمام تر حالات کا جائزہ لے کر یہاں آیا ہوں، جو لوگ انتشار پھیلاتے ہیں میں اُن پر دھیان نہیں دیتا۔
ان کا کہنا تھا کہ کوشش کریں گے کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں، تاجروں کے نقصان کا ازالہ کریں گے، ہمارے کے ایم سی اور 1122 کے فائر فائٹرز والوں کے پاس مہارت موجود ہے۔
اگر کسی اور کی ضرورت پڑی تو ضرور اپروچ کریں گے، کسی سے مدد طلب کرنا کوئی مضحکہ عمل نہیں ہوگا، یہ بلڈنگ بھی 80 کی دہائی میں تعمیر ہوئی ہے، اُس وقت یا اُس سے پہلے ایسا نظام لایا گیا جس کو ہم بھی نہ سنبھال سکے۔
گل پلازا میں 1200 دکانیں موجود تھیں، ڈی آئی جی ساؤتھ
ڈی آئی جی ساؤتھ نے بتایا ہے کہ گل پلازا میں تیسرے درجے کی آتشزدگی کا واقعہ ہوا، پولیس، سیکیورٹی ادارے اور ریسکیو ٹیمیں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ریسکیو آپریشن میں مصروف عمل ہیں، آگ پر کافی حد تک قابو پالیا ہے، سندھ حکومت کی ہدایت پر ساؤتھ زون پولیس نے ہیلپ لائن قائم کر دی ہے۔
انہوں ںے بتایا کہ لاپتا افراد سے متعلق معلومات جمع کی جارہی ہیں، حادثے میں رات سے اب تک 6 لاشیں نکال لی گئی ہیں جو کہ شناخت کے بعد ورثا کے حوالے کردی ہیں،ریسکیو اہلکار فرقان بھی شہدا میں شامل ہے، 22 زخمی سول اسپتال میں زیرِ علاج ہیں، گل پلازا میں 1200 دکانیں موجود تھیں۔
ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق گل پلازا کے اطراف پولیس کی اضافی نفری تعینات ہے، ریسکیو ٹیموں کے لیے راستے کلیئر رکھے جا رہے ہیں، آگ لگنے کی اصل وجہ کولنگ کے بعد تحقیقات میں سامنے آئے گی۔
فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے آپریشن میں حصہ لیا
فائر بریگیڈ حکام کے مطابق عمارت میں آگ رات گئے لگی، آگ کو تیسرے درجے کی قرار دیا گیا، گل پلازا کے قریب عقبی حصہ گرنے سے ایک فائر فائٹر دب کر جاں بحق ہوا، شہر بھر سے 20 سے زائد فائر بریگیڈ کی گاڑیاں آپریشن میں مصروف ہیں، عمارت کے باہر دو اسنارکل بھی آگ پر قابو پانے میں مصروف ہیں۔
فائر بریگیڈ حکام نے بتایا کہ عمارت کی صورتحال مخدوش ہے اس لیے عمارت کے اندر داخل نہیں ہوا جاسکتا، عمارت سے ملبہ ہٹانے کے بعد صورتحال واضح ہوسکے گی۔
چیف فائر آفیسر نے بتایا کہ گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں، آگ کو تیسرے درجے کی قرار دے کر شہر بھر سے فائر ٹینڈرز طلب کرلیے گئے ہیں، پھنسے ہوئے افراد کو اسنارکل کی مدد سے نکالا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق شاپنگ پلازا پر لگی آگ تیسری منزل تک پہنچ گئی جبکہ گل پلازا میں بیسمنٹ مارکیٹ بھی موجود ہے۔ آگ کے باعث عمارت خستہ حال ہو چکی اور کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔
سی پی ایل سی ہیلپ ڈیسک قائم، لاشوں کی شناخت ڈی این اے سے ہوگی، 40 افراد نے رابطہ کرلیا
سی پی ایل سی شناخت پروگرام کی ٹیم نے سول اسپتال ٹراما سینٹر کے باہر کیمپ لگادیا۔
انچارج عامر حسن کے مطابق متاثرین اپنے لاپتا پیاروں سے متعلق تفصیلات سی پی ایل سی ہیلپ ڈیسک پر فراہم کرسکتے ہیں، شناخت ٹیم سانحات میں جاں بحق افراد کی درست شناخت اور ورثاء کا سراغ لگانے کا کام انجام دیتی ہے
انچارج کے مطابق ملبے اور عمارت میں اب بھی کئی افراد کی موجودگی کا خدشہ ہے، اب تک 6 لاپتا افراد کے لواحقین نے رابطہ کرکے ان کی تفصیلات جمع کرائی ہیں، سی پی ایل سی پروگرام ناقابل شناخت لاشوں کی ڈی این اے کی مدد سے شناخت کو ممکن بناتا ہے، ماضی میں پی آئی اے طیارہ حادثہ، سانحہ بیلا، نوری آباد اور دیگر میں جاں بحق افراد کی لاشوں کی شناخت اس ہی ٹیم نے ممکن بنائی تھی۔
انچارج نے مزید بتایا کہ اب تک 40 افراد ہمارے پاس رجسٹریشن کروا چکے پیں۔
ترجمان ریسکیو 1122 حسان الحسیب خان نے بتایا کہ گل پلازا کے قریب دکانوں میں آتشزدگی کی اطلاع ملی جس کے بعد فائر اینڈ ریسکیو ٹیم مع ایمبولینس اور فائر بریگیڈ ٹرک جائے وقوعہ پر روانہ کی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے رپورٹر محمد شاہ میر خان کے مطابق رات 10:15 بجے سے لگنے والی آگ پر قابو پانے کی فائر بریگیڈ کو کوششیں جاری ہیں لیکن ریسکیو حکام کی کوششوں کے باوجود آگ دوبارہ بھڑک جاتی ہے۔
رپورٹر کے مطابق فائر فائٹرز اور ریسکیو حکام دوران آتشزدگی عمارت کے اندر داخل نہیں ہوسکے جس سے آگ کی شدت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے جبکہ عمارت کے ستون وغیرہ ٹوٹ کر گرگئے۔
ترجمان واٹر بورڈ نے بیان میں بتایا کہ گل پلازا میں آتشزدگی کے واقعے پر فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 نے واٹر کارپوریشن سے فوری مدد طلب کی اور سی ای او احمد علی صدیقی کی ہدایت پر نیپا اور صفورہ ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کردی۔
انہوں نے کہا کہ واٹر کارپوریشن کی جانب سے فوری طور پر واٹر ٹینکرز جائے وقوع پر روانہ کردیے گئے، انچارج ہائیڈرنٹس سیل محمد صدیق تنیو فائر بریگیڈ اور ریسکیو حکام سے مسلسل رابطے میں رہے۔
ترجمان نے بتایا کہ فوکل پرسن سی ای او برائے ہائیڈرنٹس سیل شہباز بشیر آپریشن کی خود نگرانی کر رہے ہیں، آگ بجھانے کے عمل میں فائر بریگیڈ کو بلا تعطل پانی کی فراہمی یقینی بنائی گئی اور واٹر کارپوریشن فائر بریگیڈ اور ریسکیو اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون رہا۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر میونسپل کمشنر اور دیگر افسران کی سربراہی میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کی ہیوی مشینری جائے وقوع پر پہنچی۔
ترجمان کے مطابق میونسپل کمشنر سید محمد افضل زیدی نے ریسکیو آپریشن کی براہِ راست نگرانی کی۔ میونسپل سروسز اور فائر بریگیڈ کی مشینری موقع پر موجود رہی ضرورت پڑنے پر مزید مشینری بھی الرٹ رہی۔
سندھ رینجرز کے جوان بھی ریسکیو آپریشن میں شامل
واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈی جی رینجرز سندھ کی خصوصی ہدایت پر سندھ رینجرز کے چاق و چوبند دستے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور امدادی کاموں میں حصہ لیا۔
گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کا دورہ
گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری گل پلازا پہنچے اور متاثرہ تاجروں سے ملاقات کی۔ انہوں نے آگ لگنے کے واقعے پر بریفنگ لی جبکہ ریسکیو و امدادی کارروائیوں کا جائزہ بھی کیا۔
گورنر سندھ نے متاثرین کے نقصانات اور بحالی کے اقدامات پر فوری ہدایات بھی جاری کیں۔
بلاول بھٹو کا جانی و بھاری مالی نقصان پر اظہار افسوس
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ہولناک آگ کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور بھاری مالی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آتشزدگی کے واقعے میں جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلیٰ سندھ اور میئر کراچی کو ہدایت کی کہ آگ بجھانے اور ریسکیو آپریشن کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور متاثرین کو ہر ممکن امداد فراہم کی جائے۔
میئر کراچی کا اظہار افسوس
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے گل پلازا میں آتشزدگی کے باعث جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جانی نقصان پر شدید افسوس ہے، غمزدہ لواحقین کے اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
میئر کراچی نے کہا کہ فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر موجود ہیں جبکہ ریسکیو اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
میئر کراچی نے بلدیہ عظمیٰ کے تمام محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین کو ہر ممکن امداد اور فوری ریسکیو فراہم کیا جائے تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
وفاقی سطح پر سندھ حکومت کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں، مصطفیٰ کمال
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کراچی ایم اے جناح روڈ پر گل پلازا میں آتشزدگی کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کا شریک ہوں۔
انہوں نے کہا کہ آگ کے واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہوں۔ وزیر صحت نے ہدایت کی کہ زخمیوں کو فوری اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
مصطفیٰ کمال نے پیش کش کی کہ وفاقی سطح پر سندھ حکومت کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں، ریسکیو ادارے متاثرہ عمارت میں پھنسے افراد کو بحفاظت نکالنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں، آگ پر جلد از جلد قابو پانا اور مزید جانی نقصان سے بچاؤ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی و شہری حکومتیں فائر بریگیڈ اور ریسکیو آپریشن کو مزید مؤثر بنائیں۔
اسپیکر سندھ اسمبلی کا اظہار تعزیت
اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ نے گل شاپنگ پلازہ میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے اور قیمتی جانوں کے ضیاع و مالی نقصان پر افسوس کرتے ہوئے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا اور متعلقہ اداروں کو ہر ممکن معاونت کی ہدایت بھی کی ہے۔
اپوزیشن لیڈر کا اظہار افسوس
اپوزیشن لیڈر سندھ علی خورشیدی نے گل پلازہ میں آتشزدگی کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کو سانحہ قرار دے دیا۔
علی خورشیدی نے کہا کہ گل پلازہ سانحہ دلخراش ہے، جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں، آتشزدگی کے واقعات پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات نہ ہونا تشویشناک ہے۔
اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی نے کہا کہ مزید جانی نقصان سے بچاؤ کے لیے ریسکیو اور امدادی کارروائیوں میں تیزی لائی جائے، متاثرین کو ہر ممکن امداد اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
علی خورشیدی نے جاں بحق فائر فائٹر کی نماز جنازہ میں بھی شرکت کی۔