اسحاق ڈار کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ، خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی فائل فوٹو نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا، اسحاق ڈار نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مطابق تمام فریقوں پر کشیدگی کم کرنے اور تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے موجودہ علاقائی صورتحال کا جائزہ لیا اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر خیالات کا تبادلہ کیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے کہا کہ تنازعات کے حل اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری ہی واحد مؤثر راستہ ہیں۔ لہٰذا تمام متعلقہ فریقوں کو اختلافات کے حل کے لیے بات چیت کو ترجیح دینی چاہیے۔

نائب وزیراعظم نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان مستقبل میں بھی خطے میں امن، استحکام اور سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال پر قریبی رابطے برقرار رکھنے اور باہمی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔

دو روز قبل وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے خطے کی حالیہ کشیدگی پر اظہار تشویش کیا۔

وزیراعظم نے خطے میں حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کی فوری بحالی کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایران اور دیگر تمام متعلقہ فریق تحمل و بردباری کا مظاہرہ کریں، متعلقہ فریق ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جو امن کے لیے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔

شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے باہمی وعدوں اور ذمہ داریوں کی پاسداری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت خطے اور اس سے باہر باہمی افہام و تفہیم کے لیے پائیدار بنیاد فراہم کرتی ہے۔

وزیراعظم نے ایرانی صدر کو یقین دہانی کروائی کہ پاکستان علاقائی امن و استحکام کی بحالی کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا، مفاہمتی یادداشت احترام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے پائیدار بنیاد فراہم کرتی ہے۔

واضح رہے تین ہفتے قبل امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات ہوئے تھے ، مذاکرات کے بعد قطر اور پاکستان کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق فریقین نے مذاکرات کی نگرانی کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی کے قیام پر اتفاق کر لیا تھا،حتمی معاہدے کے لیے 60 روزہ روڈمیپ منظور کر لیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے رابطہ لائن قائم کر دی گئی تھی۔

install suchtv android app on google app store