پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی میں ہونے والی جنگ کے بعد چین کے بیان نے بھارت، خصوصاً بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے لیے مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ چین نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی میں کردار ادا کیا تھا۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارت کی جانب سے چین کے دعوؤں کو مسترد کرنے پر طنزیہ ردعمل دیا۔
خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر لکھا کہ جنگ کے دوران ’بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پوری دنیا سے پاکستان سے بچانے کی اپیل کی‘۔
30 دسمبر 2025 کو چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا تھا کہ چین نے مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے مختصر فوجی تنازع کے دوران جنگ بندی کے لیے ثالثی میں کردار ادا کیا۔
اس بیان کے بعد بھارتی میڈیا میں اس دعوے کی سختی سے تردید کی جا رہی ہے اور متعدد چینلز اور اخبارات حکومتی ذرائع کے حوالے سے مسلسل یہ مؤقف دہرا رہے ہیں کہ اس تنازع میں کسی تیسرے فریق نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔
این ڈی ٹی وی اور انڈیا ٹوڈے گروپ نے حکومتی مؤقف کے حوالے سے لکھا کہ بھارت نے ہمیشہ ثالثی کی مخالفت کی ہے اور کسی بھی تیسرے فریق کی مداخلت کو قبول نہیں کیا جاتا۔
تاہم قابل ذکر بات یہ ہے کہ چین کے دعوے پر اب تک بھارتی حکومت کی جانب سے باضابطہ طور پر کوئی تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا۔ حالانکہ چین نے اپنے مؤقف کو واضح انداز میں پیش کیا ہے۔
چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے ایک سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ سال 2025 میں عالمی سطح پر مقامی جنگوں اور سرحدی تنازعات میں اضافہ ہوا ہے اور چین نے منصفانہ مؤقف کے ساتھ امن کے قیام کے لیے کردار ادا کیا۔
ان کے مطابق چین نے نہ صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کیا بلکہ شمالی میانمار، ایران کے جوہری مسئلے، فلسطین اور اسرائیل، اور کمبوڈیا و تھائی لینڈ کے تنازعات میں بھی ثالثی کی کوششیں کیں۔
خیال رہے کہ امریکا بھی اس بحث میں شامل رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مواقع پر یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ انہوں نے بھی پاک بھارت فوجی تنازع میں اہم کردار ادا کیا تھا، جس کے نتیجے میں فوری جنگ بندی ممکن ہوئی۔
تاہم، بھارت ان دعوؤں کو بھی مسترد کرتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام معاملات دوطرفہ ہیں اور کسی تیسرے فریق کی مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں۔
بھارت کے اندر سیاسی سطح پر اس معاملے نے حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
حزب اختلاف کی جماعت کانگریس نے مودی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی پالیسیوں نے بھارت کی مذاکراتی پوزیشن کو کمزور کر دیا ہے۔
کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے کہا کہ صدر ٹرمپ طویل عرصے سے اپنی ثالثی کا دعویٰ کرتے رہے ہیں اور اب چینی وزیر خارجہ بھی ایسا ہی کہہ رہے ہیں، مگر وزیر اعظم مودی نے ان دعوؤں پر کبھی واضح جواب نہیں دیا۔
جے رام رمیش نے مزید کہا کہ بھارتی فوج کے ایک سینئر افسر بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ آپریشن سندور کے دوران بھارت کو چین کا بھی سامنا تھا، جس سے چینی ثالثی کے دعوے مزید تشویش ناک ہو جاتے ہیں۔
ان کے مطابق چین کے ساتھ بھارت کے تعلقات پہلے ہی عدم توازن کا شکار ہیں، تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے اور سرحدی علاقوں میں کشیدگی برقرار ہے۔
ایسے میں بھارتی عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ آیا پاک بھارت جنگ بندی میں چین نے واقعی کوئی کردار ادا کیا یا نہیں۔