روزانہ کچھ مقدار میں اخروٹ کھانا آپ کی غذا کو صحت کے لیے زیادہ مفید بناسکتا ہے۔
یہ بات سویڈن میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
Loma Linda یونیورسٹی اسکول آف پبلک ہیلتھ کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ کی بنیاد پر اخروٹ کا استعمال غذاؤں سے جسم کے اندر پیدا ہونے والے ورم میں کمی لانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
اس تحقیق میں دیکھا گیا تھا کہ کونسی غذاؤں کے استعمال سے ورم میں اضافہ ہوتا ہے یا کمی آتی ہے۔
اس تحقیق میں ایک کلینیکل ٹرائل کے دوران دریافت ہوا کہ جو افراد روزانہ 30 سے 60 گرام اخروٹ روزانہ کھاتے ہیں، ان کے غذائی ورم میں کمی آتی ہے۔
نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ اخروٹ کو غذا کا حصہ بنانے سے صحت کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملتی ہے۔
واضح رہے کہ دائمی ورم سے متعدد سنگین طبی پیچیدگیوں جیسے امراض قلب اور دیگر کا خطرہ بڑھتا ہے۔
یہ کلینیکل ٹرائل 2 سال تک جار ی رہا ہے جس میں 319 معمر افراد کو شامل کیا گیا تھا۔
ان افراد کو 2 گروپس میں تقسیم کیا گیا جن میں سے ایک گروپ کو روزانہ 28 سے 57 گرام اخروٹ کا استعمال کرایا گیا جبکہ دوسرے گروپ کو اس گری سے دور رکھا گیا۔
دونوں گروپس کو کسی بھی قسم کی غذائی تبدیلی کرنے کی ہدایت نہیں کی گئی تھی۔
2 سال بعد دریافت ہوا کہ اخروٹ کھانے والے افراد میں ورم کی سطح دوسرے گروپ میں شامل افراد کے مقابلے میں نمایاں حد تک کم تھی۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل آف اکیڈمی آف نیوٹریشن اینڈ ڈائیٹیکس میں شائع ہوئے۔
اس سے قبل گزشتہ دنوں جرنل فوڈ اینڈ فنکشن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ وزانہ کچھ مقدار میں اخروٹ کھانے سے مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں جبکہ سیروٹونن میٹابولزم کو فائدہ ہوتا ہے۔
سیروٹونن دماغ اور آنتوں میں پائے جانے والا ایسا نیورو ٹرانسمیٹر ہے جسے خوشی کا ہارمون کہا جاتا ہے جبکہ یہ نیند اور ذہنی سکون کو کنٹرول کرتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ اخروٹ اومیگا 3 فیٹی ایسڈز، پولی فینولز اور دیگر غذائی اجزا سے بھرپور ہوتے ہیں جو معدے میں موجود بیکٹیریا کے ذریعے مزاج کو خوشگوار بنانے والے حیاتیاتی عمل کو متحرک کرتے ہیں۔