بیشتر افراد مونگ پھلی کھانا پسند کرتے ہیں۔ مونگ پھلی کو مختلف شکلوں میں کھایا جاتا ہے مگر کیا اس سے صحت کو کوئی فائدہ ہوتا ہے؟
حقیقت تو یہ ہے کہ مہنگی گریوں کے مقابلے میں سستی مونگ پھلی صحت کے لیے بہت مفید ثابت ہوسکتی ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ مونگ پھلی کو کھانے سے ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ مونگ پھلی کا استعمال عادت بنانے سے خون میں گردش کرنے والی چکنائی میں مخصوص تبدیلیاں آتی ہیں۔
اس تحقیق میں 18 سے 33 سال کی عمر کے 63 صحت مند افراد کو ایک کلینیکل ٹرائل کا حصہ بنایا گیا۔
انہیں 3 گروپ میں تقسیم کیا گیا، ایک گروپ کو 6 ماہ تک روزانہ 25 گرام مونگ پھلی کھلائی گئی۔
دوسرے گروپ کو روزانہ 32 گرام یا 2 کھانے کے چمچ پینٹ بٹر کا استعمال کرایا گیا جبکہ تیسرے گروپ کو مونگ پھل کے تیل سے تیار کردہ مکھن کی 32 گرام کا استعمال کرایا گیا۔
تحقیق کے آغاز اور پھر 6 ماہ بعد ان افراد کے خون کے نمونے اکٹھے کیے گئے۔
محققین نے دریافت کیا کہ اس عرصے میں خون میں چکنائی کے پیمانے پر 51 فیصد تک تبدیلی آئی۔
بعد ازاں محققین نے 35 سے 65 سال کی عمر کے 27 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جو 1990 کی دہائی سے اکٹھا کرنا شروع کیا گیا تھا۔
محققین نے ان افراد کے خون کے نمونوں میں مونگ پھلی کے استعمال سے آنے والی تبدیلیوں کا موازنہ ذیابیطس کے نئے مریضوں کے نمونوں سے کیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ مونگ پھلی کے ستعمال سے ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ اس گری سے ذیابیطس کا خطرہ 11 فیصد تک کم ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ تمباکو نوشی، بلڈ پریشر، جسمانی سرگرمیوں، ادویات اور دیگر عناصر کو مدنظر رکھنے پر بھی یہ کمی برقرار رہی۔
محققین نے کہا کہ ہمارے کلینیکل ٹرائل میں شامل افراد کی تعداد کم تھی تو نتائج کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
مگر ان کا کہنا تھا کہ پھر بھی مونگ پھلی کا استعمال نقصان دہ نہیں ہوتا۔