ورزش سے فٹنس اور بلڈ شوگر کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے، نئی تحقیق میں حیران کن انکشاف

ورزش سے فٹنس اور بلڈ شوگر کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے فائل فوٹو ورزش سے فٹنس اور بلڈ شوگر کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے

روزانہ کی بنیاد پر کچھ وقت کے لیے ورزش کرنے سے دل اور نظام تنفس کی فٹنس بہتر ہوتی ہے جبکہ میٹابولک صحت کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

جرنل فرنٹیئرز ان نیوٹریشن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ ایسے افراد جو اپنا زیادہ تر وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں، روزانہ کچھ منٹ کی جسمانی سرگرمیوں کو معمول بنا کر فٹنس کو بہتر بنا سکتے ہیں جبکہ بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھ سکتے ہیں۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ یہ طریقہ کار ان افراد کے لیے مددگار ثابت ہوسکتا ہے جن کے لیے روزمرہ کے معمولات میں زیادہ وقت تک ورزش کرنا مشکل ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے لیے 22 تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جن میں 994 ایسے افراد شامل تھے جو زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے کے عادی تھے۔

ان افراد کو ایک دن سے لے کر 12 ہفتوں کے دورانیے پر مشتمل ورزش کے پروگرام کا حصہ بنایا گیا۔

یہ ورزشیں مختلف دورانیے اور اقسام پر مشتمل تھیں۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ چند منٹ کی ورزش سے جسم کے اندر آکسیجن کی سطح بڑھتی ہے جبکہ دل اور نظام تنفس کی فٹنس بہتر ہوتی ہے۔

اسی طرح مختصر ورزش سے خون میں گلوکوز اور چکنائی کی سطح بھی بہتر ہوتی ہے جس سے بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

البتہ محققین جسمانی چربی، مسلز کے حجم، انسولین کی سطح یا مسلز کی مضبوطی میں کوئی نمایاں بہتری دریافت نہیں کرسکے۔

انہوں نے کہا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ مختصر وقت کی جسمانی سرگرمیوں سے صحت کو لاحق ہونے والے ایسے مختلف خطرات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہیں جن کا سامنا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے سے ہوتا ہے، بالخصوص فٹنس اور گلوکوز ریگولیشن بہتر ہوتی ہے۔

البتہ انہوں نے کہا کہ اسے طویل دورانیے کی جسمانی سرگرمیوں کا متبادل قرار نہیں دیا جاسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر ہفتے کم از کم 150 منٹ تک معتدل جسمانی سرگرمیاں صحت کے لیے زیادہ مفید ہوتی ہیں اور ان کا اثر دیرپا ہوتا ہے۔

install suchtv android app on google app store