ایک نئی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ طبی مشوروں کے لیے مصنوعی ذہانت کے ٹول ChatGPT پر مکمل انحصار کرنا مناسب نہیں اور صارفین کو اس کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر ہفتے 230 ملین سے زیادہ افراد صحت سے متعلق سوالات کے لیے چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کرتے ہیں۔ لوگ اس پلیٹ فارم سے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کون سی غذائیں محفوظ ہیں یا مختلف بیماریوں کے لیے کون سے گھریلو علاج فائدہ مند ہو سکتے ہیں۔
تحقیق میں کیا سامنے آیا؟
تحقیق کے مطابق اگرچہ اے آئی ٹولز واضح ہنگامی صورتحال کو اکثر درست انداز میں پہچان لیتے ہیں، تاہم نصف سے زیادہ ایسے کیسز میں خطرے کی شدت کم اندازہ لگائی گئی جن میں فوری طبی امداد ضروری تھی۔
اس تحقیق کے لیے ماہرین نے 21 طبی شعبوں سے متعلق 60 مختلف طبی منظرنامے تیار کیے، جن میں معمولی بیماریوں سے لے کر سنگین ہنگامی حالات تک کے کیسز شامل تھے۔
حساس معاملات میں کم قابل اعتماد جواب
مطالعے میں یہ بھی سامنے آیا کہ جب صارفین خود کو نقصان پہنچانے جیسے حساس موضوعات پر سوال کرتے ہیں تو اے آئی کے جوابات بعض اوقات غیر مستقل یا متضاد ہوتے ہیں۔
محققین کے مطابق اس کا مطلب یہ نہیں کہ صحت کے شعبے میں اے آئی کا استعمال ترک کر دیا جائے، بلکہ اسے ڈاکٹروں اور ماہرین کی رہنمائی کے ساتھ استعمال کرنا زیادہ محفوظ ہے۔
ماہرین کا مشورہ
ماہرین نے کہا ہے کہ اگر کسی شخص کو درج ذیل علامات محسوس ہوں تو فوری ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے:
-
سینے میں شدید درد
-
شدید الرجی
-
اچانک بگڑتی ہوئی طبی حالت
ایسی صورت میں صرف چیٹ بوٹ کے مشورے پر انحصار کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اے آئی زبان ماڈلز کو مسلسل اپ ڈیٹ اور بہتر بنایا جا رہا ہے، اس لیے ان کی کارکردگی وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہے اور ان پر مسلسل تحقیق اور نگرانی ضروری ہے۔