جوان افراد میں کینسر کے تیزی سے پھیلاؤ کی اہم وجہ دریافت

جوان افراد میں کینسر کے تیزی سے پھیلاؤ کی ایک اہم وجہ کو دریافت کیا گیا ہے فائل فوٹو جوان افراد میں کینسر کے تیزی سے پھیلاؤ کی ایک اہم وجہ کو دریافت کیا گیا ہے

دنیا بھر میں کینسر تیزی سے پھیل رہا ہے اور پھیپھڑوں کا کینسر سرطان کی سب سے زیادہ تشخیص ہونے والی قسم ہے۔

ویسے تو اب اس مرض سے اموات کی شرح میں کسی حد تک کمی آئی ہے مگر بری خبر یہ ہے کہ جوان افراد میں کینسر سے متاثر ہونے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

درحقیقت کینسر کی مخصوص اقسام سے جوان افراد (50 سال سے کم عمر) کے متاثر ہونے کا خطرہ 1950 کی دہائی کے بعد سے مسلسل بڑھا ہے۔

اب 2 نئی تحقیقی رپورٹس میں جوان افراد میں کینسر کے تیزی سے پھیلاؤ کی ایک اہم وجہ کو دریافت کیا گیا ہے۔

ان رپورٹس کے مطابق ناقص نیند سے دنیا بھر میں 50 سال سے کم عمر افراد میں کینسر کیسز کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ 3 دہائیوں کے دوران دنیا بھر میں جوان افراد میں کینسر کی مختلف اقسام کی تشخیص کی شرح میں لگ بھگ 80 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

1990 میں 50 سال سے کم عمر افراد میں کیسز کیسز کی تعداد 18 لاکھ تھی جو 2019 میں بڑھ کر 32 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی جبکہ 50 سال سے کم عمر افراد میں کینسر سے اموات کی شرح میں 27 فیصد اضافہ ہوا۔

ماہرین کی جانب سے کافی عرصے سے ان وجوہات کو جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے جن کے باعث جوان افراد میں اس جان لیوا مرض کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

مگر دنیا کی سب سے بڑی کینسر کانفرنس کے موقع پر پیش کی جانے والی 2 تحقیقی رپورٹس میں ایک بڑی وجہ کے بارے میں بتایا گیا۔

یہ دونوں تحقیقی رپورٹس امریکا کے ایم ڈی اینڈرسن کینسر سینٹر کی جانب سے پیش کی گئیں، جن میں امریکا سے تعلق رکھنے والے 18 سے 50 سال کی عمر کے ایک کروڑ 80 لاکھ سے زائد افراد کے طبی ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔

محققین نے دریافت کیا کہ جن افراد کی نیند کی عادات ناقص ہوتی ہیں، ان میں آنتوں، بریسٹ اور دیگر اقسام کے کینسر کا خطرہ 3 گنا زیادہ ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ نیند متاثر ہونے اور جوان افراد میں کینسر کے خطرے کے درمیان تعلق موجود ہے، جس کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جوان افراد میں کینسر کیسز کی شرح میں اضافے کی وجوہات عالمی سطح پر صحت کے حوالے سے بڑی ترجیح ہے کیونکہ ہر سال 10 لاکھ سے زائد افراد کینسر کے باعث ہلاک ہو رہے ہیں۔

ان تحقیقی رپورٹس کے نتائج جرنل BMJ Oncology میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل 2023 میں برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق پہلے اس مرض کو معمر افراد کا مرض تصور کیا جاتا تھا مگر 1990 سے 2019 کے دوران 50 سال سے کم عمر افراد میں اس کے پھیلاؤ میں 79 فیصد اضافہ ہوا۔

نیوزی لینڈ کی آک لینڈ یونیورسٹی کے مطابق جوان افراد میں کینسر کے زیادہ تر کیسز امیر ممالک میں سامنے آئے اور اس مرض کے پھیلاؤ کی شرح اس لیے تشویشناک ہے کیونکہ ان میں سے زیادہ تر مریض تمباکو نوشی کے عادی نہیں تھے۔

2024 میں کینسر ریسرچ یوکے اور دیگر متعدد اداروں نے ایک منصوبے پر کام شروع کیا جس کا مقصد یہ جاننا تھا کہ عالمی سطح پر معدے یا اس سے متعلق کینسر 50 سال سے کم عمر افراد میں تیزی سے کیوں پھیل رہے ہیں۔

محققین نے دریافت کیا کہ پراسیس گوشت کے زیادہ استعمال کے نتیجے میں معدے یا اس سے متعلق کینسر کی اقسام جیسے آنتوں کا کینسر تیزی سے جوان افراد میں عام ہو رہا ہے۔

اسی طرح الٹرا پراسیس غذاؤں کا استعمال بھی دنیا بھر میں عام ہوچکا ہے اور زیادہ تر امیر ممالک میں بیشتر افراد روزانہ کی 50 سے 60 فیصد کی کیلوریز الٹرا پراسیس غذاؤں سے حاصل کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ الٹرا پراسیس غذائیں تیاری کے دوران متعدد بار پراسیس کی جاتی ہیں اور ان میں نمک، چینی اور دیگر مصنوعی اجزا کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جبکہ صحت کے لیے مفید غذائی اجزا جیسے فائبر کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔

الٹرا پراسیس غذاؤں میں ڈبل روٹی، فاسٹ فوڈز، مٹھائیاں، ٹافیاں، کیک، نمکین اشیا، بریک فاسٹ سیریلز، چکن اور فش نگٹس، انسٹنٹ نوڈلز، میٹھے مشروبات اور سوڈا وغیرہ شامل ہیں۔

امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو مرد الٹرا پراسیس غذاؤں کا زیادہ استعمال کرتے ہیں ان میں آنتوں کے کینسر سے متاثر ہونے کا خطرہ 29 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

اسی طرح کے نتائج دیگر متعدد تحقیقی رپورٹس میں بھی سامنے آئے۔

مختلف تحقیقی رپورٹس میں موٹاپے کو کینسر کی متعدد اقسام سے منسلک کیا گیا ہے۔

کچھ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ناقص غذائی عادات اور زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے سے بھی معدے اور آنتوں سے متعلق کیسز کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

install suchtv android app on google app store