کیا روزہ واقعی بیماریوں سے بچاتا ہے؟ ماہرین کی تہلکہ خیز رائے

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ نہ صرف روحانی تربیت اور عبادت کا ذریعہ ہے بلکہ طبی ماہرین کے مطابق یہ جسمانی صحت کے لیے بھی متعدد فوائد رکھتا ہے۔ جدید میڈیکل تحقیق اس بات کی تائید کرتی ہے کہ روزہ قوتِ مدافعت میں اضافہ، نظامِ ہاضمہ کو آرام اور دل کی صحت میں بہتری کا سبب بن سکتا ہے۔

بہت سے لوگ اس خدشے کے باعث روزہ رکھنے سے گریز کرتے ہیں کہ کہیں بیماری یا کمزوری نہ بڑھ جائے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند افراد میں روزہ اندرونی اعضا کو وقتی آرام فراہم کرتا ہے جس سے وہ بہتر کارکردگی کے قابل ہو جاتے ہیں۔

 روزہ اور دل کی صحت

روزے کے دوران مخصوص اوقات میں کھانے پینے سے پرہیز کیا جاتا ہے جبکہ روزمرہ سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ اس عمل سے جسم توانائی ذخائر استعمال کرتا ہے، جس کے نتیجے میں خون کی گردش میں توازن پیدا ہوتا ہے۔

  • دل کے پٹھوں پر دباؤ کم ہوتا ہے

  • خون کی شریانوں کو آرام ملتا ہے

  • کولیسٹرول کے ذرات کے جمع ہونے کا خطرہ کم ہو سکتا ہے

چونکہ افطار تک خون میں موجود غذائی ذرات تحلیل ہو چکے ہوتے ہیں، اس لیے شریانوں میں چربی کے جماؤ کا امکان کم رہتا ہے، جو امراضِ قلب سے بچاؤ میں مددگار ہو سکتا ہے۔

 اسٹریس میں کمی

روزہ صبر، برداشت اور روحانی سکون کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ مسلسل ایک ماہ کی یہ تربیت ذہنی دباؤ کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، جس کے مثبت اثرات دل اور اعصابی نظام پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔

 روزہ اور معدہ

عام حالات میں بھوک معدے کی تیزابیت میں اضافہ کر سکتی ہے، مگر روزے کی حالت میں معدے کی رطوبات متوازن ہو جاتی ہیں۔

  • معدے کو وقتی آرام ملتا ہے

  • ہاضمے کے خلیات کو توانائی بحال کرنے کا موقع ملتا ہے

  • افطار کے بعد ہضم کرنے کی صلاحیت بہتر ہو سکتی ہے

 آنتوں پر اثرات

روزہ آنتوں کو بھی آرام فراہم کرتا ہے۔ نظامِ ہاضمہ کی حرکت منظم ہوتی ہے اور مدافعتی نظام کو تقویت مل سکتی ہے۔ اس سے ہاضمے سے متعلق مسائل کے خطرات میں کمی آ سکتی ہے۔

install suchtv android app on google app store