پاکستان میں کینسر کے مریضوں کیلئے علاج کی راہ میں حائل مہنگائی کی بڑی رکاوٹ دور کرنے کی جانب اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
حکومت پاکستان اور معروف ملٹی نیشنل فارماسیوٹیکل کمپنی Roche کے درمیان پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کینسر کی مفت ادویات فراہم کرنے کا طویل المدتی معاہدہ طے پا گیا۔
معاہدے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی سیکریٹری صحت نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے کینسر کے مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے ادویات فراہم کی جائیں گی۔
پانچ سالہ پروگرام کے دوران ہزاروں مریض پمز اسپتال میں جدید علاج سے مستفید ہو سکیں گے۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال اور نجی دوا ساز کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر نے معاہدے پر دستخط کیے، جس کے بعد اس فلاحی منصوبے کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔
وزیر صحت نے اس موقع پر کہا کہ مہنگے علاج کے باعث ملک میں لاکھوں افراد مالی مشکلات کا شکار ہو چکے ہیں، جبکہ کینسر جیسے مرض کا علاج عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔
ان کے مطابق ایک مریض کے علاج پر پانچ سال میں اوسطاً 98 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس شراکت داری کے تحت پہلے آئیے، پہلے پائیے کی بنیاد پر ہر سال 741 مریضوں کو فی کس تقریباً ایک کروڑ روپے مالیت کی مفت ادویات فراہم کی جائیں گی، جس سے مستحق افراد کو زندگی کی نئی امید ملے گی۔