ڈنمارک کی دوا ساز کمپنی نوو نورڈسک نے امریکا میں وزن کم کرنے والی دوا ویگووی (Wegovy) کو گولی کی شکل میں لانچ کر دیا ہے۔
یہ گولی انجیکشن کے مقابلے میں نمایاں طور پر سستی ہے، جس سے اس شعبے میں قیمتوں کی جنگ مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔
نوو نورڈسک کے مطابق روزانہ ایک بار لی جانے والی ویگووی گولی کو کرسمس سے قبل امریکی ریگولیٹر کی منظوری ملی تھی اور اب یہ امریکا بھر میں دستیاب ہے۔
یہ اس وقت مارکیٹ میں موجود واحد GLP-1 گولی ہے جو بھوک کم کرنے والے ہارمون کی نقل کرتی ہے۔
کمپنی کے مطابق خود ادائیگی کرنے والے مریض ویگووی کی ابتدائی 1.5 ملی گرام خوراک 5 ڈالر یومیہ یا 149 ڈالر ماہانہ میں حاصل کر سکتے ہیں۔
4 ملی گرام خوراک 15 اپریل تک 149 ڈالر ماہانہ اور اس کے بعد 199 ڈالر میں دستیاب ہوگی، جبکہ زیادہ خوراکوں کی قیمت 299 ڈالر ماہانہ رکھی گئی ہے۔
انشورنس رکھنے والے مریض یہ دوا 25 ڈالر ماہانہ سے حاصل کر سکیں گے۔
ماہرین کے مطابق گولی کی صورت میں دستیابی، کم قیمت اور سوئی سے نجات کے باعث ویگووی زیادہ مقبول ہو سکتی ہے۔
یو بی ایس کے فارماسیوٹیکل تجزیہ کار میٹ ویسٹن کے مطابق ویگووی گولی کی قیمت توقع سے بھی کم ہے، کیونکہ امریکا میں وزن کم کرنے والے انجیکشنز کی فہرست قیمت عموماً ایک ہزار ڈالر ماہانہ یا اس سے زائد ہوتی ہے۔
ویگووی گولی اس وقت امریکا کے 70 ہزار سے زائد فارمیسیز جیسے CVS اور Costco کے علاوہ ٹیلی ہیلتھ پلیٹ فارمز Ro، LifeMD اور Weight Watchers پر دستیاب ہے، جبکہ زیادہ خوراکیں رواں ہفتے کے دوران فراہم کی جائیں گی۔
نقد ادائیگی کرنے والے مریض یہ دوا ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈائریکٹ ٹو کنزیومر ویب سائٹ TrumpRx سے بھی خرید سکیں گے۔
نوو نورڈسک حکام کا کہنا ہے کہ ویگووی گولی ان لاکھوں افراد کے لیے نئی امید ہے جو وزن کم کرنے کے علاج کے منتظر تھے۔
کمپنی کے مطابق کلینیکل آزمائشوں میں مسلسل استعمال کی صورت میں مریضوں کا اوسط وزن تقریباً 17 فیصد تک کم ہوا۔
واضح رہے کہ ویگووی گولی کو فی الحال صرف امریکا میں منظوری حاصل ہوئی ہے، جبکہ برطانیہ میں اس کی منظوری سے متعلق درخواست زیرِ غور ہے، جس پر رواں سال کے اختتام تک فیصلہ متوقع ہے۔