سائنس دانوں کی کینسر کے علاج سے متعلق ایک اہم پیش رفت

کینسر فائل فوٹو کینسر

سائنس دانوں نے کینسر کے علاج سے متعلق ایک اہم پیش رفت میں انکشاف کیا ہے کہ جسم میں موجود ایک خاص پروٹین کو روکنے سے کینسر کے بڑھنے کے نظام کو نمایاں طور پر سست کیا جاسکتا ہے۔

یہ تحقیق اس بات پر مرکوز ہے کہ انسانی مدافعتی نظام کو مزید مضبوط بناکر کینسر کے خلاف کیسے مؤثر بنایا جائے۔ تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے تجربہ گاہ میں کینسر کے خلیات میں مختلف جینز کو غیر فعال کرکے ان کے اثرات کا جائزہ لیا۔

اس عمل میں یہ بات سامنے آئی کہ ایک مخصوص جین جو ایک خاص پروٹین بناتا ہے، کینسر کے خلیات کو مدافعتی نظام کے حملوں سے بچانے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔

بعد ازاں جب یہی تجربات مکمل مدافعتی نظام رکھنے والے چوہوں پر کیے گئے تو نتائج مزید واضح ہو گئے۔ جن چوہوں میں یہ پروٹین موجود نہیں تھا، ان میں کینسر کے رسولے نہ صرف آہستہ بڑھے بلکہ وہ چوہے نسبتاً زیادہ عرصہ زندہ بھی رہے۔

آسٹریلیا اور آئرلینڈ کے تحقیقی اداروں سے تعلق رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت مستقبل میں نئے علاج کی بنیاد بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق ایسی ادویات تیار کی جا سکتی ہیں جو اس پروٹین کی پیداوار کو روک کر کینسر کے خلیات کو کمزور کر دیں۔

تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ پروٹین دراصل مدافعتی خلیات کے حملوں سے کینسر کے خلیات کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ جب یہ پروٹین غیر موجود ہوتا ہے تو مدافعتی خلیات زیادہ مؤثر انداز میں کینسر کے خلیات کو نشانہ بنا سکتے ہیں اور انہیں ختم کر دیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ دریافت اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ مدافعتی علاج میں جسم کے اپنے دفاعی نظام کو استعمال کیا جاتا ہے، جو کہ روایتی کیمیکل یا شعاعی علاج کے مقابلے میں نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا ہے۔

تاہم سائنس دانوں نے واضح کیا ہے کہ یہ تحقیق فی الحال تجربہ گاہ اور جانوروں تک محدود ہے۔ انسانوں پر اس کے اثرات جانچنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ ممکنہ نقصانات اور فوائد کا مکمل اندازہ لگایا جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں اس پروٹین کو محفوظ طریقے سے روکا جا سکا تو موجودہ مدافعتی علاج مزید مؤثر ہو سکتے ہیں اور کینسر کے خلاف ایک مضبوط ہتھیار ثابت ہو سکتے ہیں

 

install suchtv android app on google app store