امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی اور ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ (MIT) کے سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ہائی فیٹ (چکنائی سے بھرپور) کیٹو ڈائیٹ جگر کے خلیوں میں تبدیلی پیدا کر سکتی ہے اور طویل مدت میں کینسر کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، کیٹو ڈائیٹ میں زیادہ تر کاربوہائیڈریٹس سے پرہیز کیا جاتا ہے، جس سے جسم توانائی کے لیے جمع شدہ چکنائی استعمال کرتا ہے اور وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اگرچہ یہ ڈائیٹ وزن کم کرنے کے لیے مقبول ہے، لیکن نئی تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ یہ صحت کے لیے خطرناک بھی ہو سکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق، ہائی فیٹ ڈائیٹ جگر کے خلیوں کو ایک ابتدائی حالت میں لے جاتی ہے۔ اس تبدیلی سے جگر اضافی چکنائی کے دباؤ کو سنبھال سکتا ہے، لیکن خلیے بیماری کے لیے زیادہ حساس ہو جاتے ہیں۔
پروفیسر ایلکس شالیک، انسٹی ٹیوٹ فار میڈیکل انجینئرنگ اینڈ سائنسز کے ڈائریکٹر اور تحقیق کے شریک مصنف نے کہا کہ اگر خلیے بار بار ہائی فیٹ ڈائیٹ کے دباؤ کا سامنا کریں، تو وہ زندہ رہنے کے لیے اقدامات کرتے ہیں، لیکن اس کے نتیجے میں کینسر پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ہائی فیٹ ڈائیٹس کا تعلق پہلے سے اسٹیٹوٹک لیور ڈیزیز سے رہا ہے، جس میں جگر میں زائد چکنائی جمع ہو جاتی ہے، جس سے سوزش، جگر کی ناکامی اور بالآخر کینسر پیدا ہو سکتا ہے۔
تحقیق میں چوہوں کو ہائی فیٹ ڈائیٹ دی گئی اور ان کے جگر کے ردعمل کا تجزیہ کیا گیا۔ ابتدائی مراحل میں جگر کے خلیے ہیپاٹوسائٹس نے زندہ رہنے کے لیے کچھ جینز فعال کیے، لیکن جگر کے معمول کے کام کے لیے ضروری جینز بند ہو گئے۔
کونسٹینٹائن زواناس، ہارورڈ ایم آئی ٹی کے گریجویٹ اور تحقیق کے شریک مصنف نے کہا کہ یہ ایک طرح کا توازن ہے، جہاں ہر خلیہ اپنی بقاء کے لیے کام کرتا ہے، لیکن جگر کے مجموعی کام پر اثر پڑتا ہے۔
مطالعے کے آخر تک تقریباً تمام چوہے جو ہائی فیٹ ڈائیٹ پر تھے، جگر کے کینسر میں مبتلا ہو گئے۔ محققین نے بتایا کہ اگر جگر کے خلیے اس طرح ڈھال اختیار کریں، تو مستقبل میں نقصان دہ میوٹیشن ہونے پر کینسر کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔