روزانہ ایک گلاس اورنج جوس پینے کی عادت آپ کی صحت پر غیر معمولی اثرات ڈال سکتی ہے۔ اگر آپ بھی میری طرح ہیں تو آپ کے لیے بہترین ناشتہ وہی ہے جس میں تازہ نچوڑا ہوا، ٹھنڈا اورنج جوس شامل ہو۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ یہ میٹھا ترش مشروب کچھ عرصے سے تنقید کی زد میں رہا ہے۔
اگرچہ سنگترے اپنی اصل شکل میں وٹامنز اور غذائی اجزا سے بھرپور ہوتے ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ جوس کی صورت میں یہ خون میں شوگر کی سطح کو اچانک بڑھا دیتا ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ شوگر میں یہ روزانہ کا اچانک اضافہ انسولین کے خلاف مزاحمت (انسولین ریزسٹنس) کا سبب بن سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ذیابیطس، دل کے امراض اور موٹاپے کے خطرات بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جاتا رہا ہے۔
اسی سوچ کی بنیاد پر اورنج جوس کو اکثر صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا۔ مگر اب نئی تحقیق اس تاثر کو چیلنج کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
تازہ مطالعات کے مطابق، اگرچہ اورنج جوس میں قدرتی شکر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، اس کے باوجود روزانہ ایک گلاس اورنج جوس پینے سے صحت کو کئی طرح کے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اورنج جوس میں موجود غذائی اجزا، اینٹی آکسیڈنٹس اور وٹامنز جسم پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں، جو مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
یوں اب تحقیق یہ عندیہ دے رہی ہے کہ مناسب مقدار میں اورنج جوس کا استعمال محض نقصان دہ نہیں بلکہ بعض صورتوں میں فائدہ مند بھی ہو سکتا ہے۔
مختصراً، وہ مشروب جسے کبھی صرف شوگر بم سمجھا جاتا تھا، اب سائنسی تحقیق کی روشنی میں اپنی مثبت پہچان دوبارہ حاصل کرتا دکھائی دے رہا ہے۔