’’علینا مکامی، مہاجر کیمپ میں علم کی روشنی پھیلاتی شمع‘‘

’’علینا مکامی، مہاجر کیمپ میں علم کی روشنی پھیلاتی شمع‘‘ فائل فوٹو ’’علینا مکامی، مہاجر کیمپ میں علم کی روشنی پھیلاتی شمع‘‘

مہاجرت کی زندگی بلاشبہ ایک ایسی مصیبت ہے جو بڑے بڑے بادشاہوں کو جھونپڑیوں کے اندر زمین پر سونے پر نا صرف مجبور کردیتی ہے بلکہ پھر اس کا عادی بھی بنا دیتی ہے۔ہمسایہ ملک افغانستان میں اگست ۲۰۲۱ میں طالبان کی حکومت قائم ہوئی، اگرچہ طالبان حکومت کی جانب سے سیاسی مخالفین کے لئے عام معافی کا بھی اعلان کیا گیا لیکن پھر بھی لاکھوں کی تعداد میں افغانستان سے مخلتف نسلوں اور علاقوں سے لوگوں کا انخلا شروع ہوا۔

ہمسایہ ملک سے ہجرت کرنے والوں کی پہلی پناہ گاہ ہمیشہ پاکستان ہی ہوتا ہے، اس بار بھی پاکستان نے اپنے افغان بھائیوں کے لئے اپنے دروازے کھول دئیے، چاہے وہاں سے خواتین کی فٹبال ٹیم کا انخلا ہو یا سینکڑوں مریضوں کے لئے ویژوں کا اجرا، پاکستان نے کھلے دل سے ان مہاجرین کو خوش آمدید کہا، اگر کہیں اکا دکا ناخوشگوار واقعہ پیش آیا بھی تو اس کی وجہ لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین کا بارڈر عبور کرکے پاکستان آنا اور پھر بہت سوں کا بغیر کسی دستاویز کے داخل ہونا بھی ہو سکتا ہے۔
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہزاروں کی تعداد میں افغان مہاجرین ہوٹلز، نجی رہائیشوں اور کیمپس میں پناہ گزین ہیں۔ علینا مکامی سیکٹر ایف ۶ میں لگائے گئے مہاجر کیمپس میں ایک چند مکعب فٹ کے ایک چھوٹے سے خیمے میں رہتی ہیں۔

اگرچہ علینا کی اپنی عمر بھی کچھ زیادہ نہیں لیکن مہاجرت انسان کو اپنی عمر سے بڑا سوچنے اور کرنے پر مجبور کردیتی ہے۔

ایسا ہی خیال علینا کو معصوم مہاجر بچوں کے لئے آیا جو سکول جانے کی عمر میں صبح سے شام تک ایک مرکزی شاہراہ کے آس پاس یا کھیلتے رہتے یا پھر گاڑیاں دیکھ دیکھ کر دل بہلاتے، خانم مکامی نے ان بچوں کو پڑھانے کی ٹھانی۔

’’ میں نے جب بتایا کہ میں ان بچوں کا پڑھانا چاہتی ہوں تو سب نے یہی کہا کہ یہ ایک مشکل کام ہے، بچوں کو سکول چھوڑے ایک سال سے قبل کا عرصہ ہوچکا ہے، انھیں پڑھنے کی عادت نہیں رہی ہوگی دوسرے نا یہاں کتابیں ہیں نا کاپیاں قلم‘‘، علینا نے مجھے بتایا۔

میں نے ان سے سوال کیا کہ پھر آپ کو کتنی دشواری ہوئی کہ بچوں کو اپنی جانب متوجہ کرسکیں تو علینا نے کہا ،’’ ایک دقت تو کتابیں نا ہونا تھا دوسرا یہ چھوٹا سا خیمہ کہیں سے بھی کوئی کلاس روم نہیں لگتا تھا، بچوں کے لئے دلکش کلاس رومز ہوتے ہیں بہرحال ہمارے پاس تو یہی ایک آپشن تھا۔

پھر یہ کہ بچوں کو ایک ایسی استاد بن کر متوجہ کرنا تھا جو کہ ان کی دوست ہے تاکہ بچے پیار کی وجہ سے آئیں نا کہ کسی ڈر اور خوف سے، پھر آہستہ آہستہ بچے آنے لگے، ایک ایک دو دو کرکے اور اب میرا یہ چھوٹا سا خیمہ ایک ایسا کلاس روم ہے جو بچوں سے بھرا ہوتا ہے، جب تک کہ اگر کوئی بچہ بیمار نا ہو وہ چھٹی نہیں کرتے، ان کو اب پڑھنے کا شوق ہے ‘‘۔


میرے پوچھنے پر علینا مکامی نے بتایا کہ وہ مشکل سے چند کتابوں کا انتظام کرسکیں، ہجرت کرنے والے خاندانوں کے پاس نا تو اتنی مہلت تھی نا گنجائیش کہ وہ اپنے بچوں کی کتابیں یا بستے بھی ساتھ اٹھا سکتے۔ پھر میں نے مختلف رنگوں سے بنی ہوئی اے، بی، سی اور گنتی کے اعداد خریدے تاکہ کتابوں کی کمی پوری کی جاسکے اور بچوں کا شوق بھی برقرار رہے۔

میں نے اپنے ننھے میزبانوں اور ان کی معلمہ سے جانے کی اجازت مانگی اور پھر ایک لمحے کے لئے رکا اور کہا کہ ایک آخری سوال رہ گیا، میں نے علینا سے پوچھا کہ میں نے آپ سے پوچھا نہیں کہ آپ اپنی تعلیم کا کیا سوچ رہی ہیں، خود کا مسقبل کیسے دیکھ رہی ہیں؟ علینا کا چہرہ چند لمحوں کے لئے اداس ہوگیا اور آنکھیں بھرا آئیں لیکن پھر انہی آنکھوں میں ایک چمک ابھری اور چہرے پر امید کی جھلک نظر آئی، ’’ ہمارے ملک میں لڑکیوں کے لئے پہلے سکولز بند ہوئے اور اب لڑکیوں کے لئے یونیورسٹیوں کے دروازے بھی بند ہوگئے ہیں، پوری دنیا اس فیصلے کیخلاف آواز اٹھا رہی ہے لیکن مجھے نہیں علم کے آنے والے وقت میں وہاں کیا ہوگا اور حالات کس سمت میں جائیں گے، میں بھی یہی چاہتی تھی کہ اعلیٰ تعلیم کا حصول جاری رکھتی اور ایک دن ڈاکٹر بن جاتی یا کسی ایسے مقام پر پہنچ جاتی کہ اپنے لوگوں کی مددگار ثابت ہوتی پھر ایک دن سب ختم ہوگیا میرے ارادے اور میرے خواب کہیں پیچھے ہی رہ گئے لیکن یہ ہمیشہ کے لئے نہیں، ہم جہاں بھی جائیں گے زندگی لازمی لوٹ کر آئے گی، ہم پھر سے اس دنیا کا حصہ ویسے ہی بنیں گے جیسے عام انسان اپنی زندگی گذار رہے ہیں، ہم واپس اسکولوں میں بھی جائیں گے اور ہمارے بچوں کے ہاتھوں میں بھی قلم اور کتابیں ہوں گی۔‘‘

subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store