امریکی صدر نے تیسری عالمی جنگ کا اشارہ دے دیا، ایران پر حملے کی منصوبہ بندی سامنے آتے ہی ہلچل مچ گئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے کی صورت میں ایران کے خلاف بڑی کارروائی کی دھمکی دے دی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر سے جاری اپنے پیغام میں انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نےحملہ کیا تواس کے 52 مقامات کونشانہ بنائیں گے۔

انہوں نے لکھا کہ ایران بہت بہادری سے امریکہ پر حملہ کرنے کی دھمکی دے رہا ہے، اگر ایسا کوئی قدم اٹھایا گیا تو ہم ایران کو انتہائی پھرتی اور شدت سے نشانہ بنائیں گے۔

یاد رہے گزشتہ دن امریکی ڈرون حملے میں پاسداران انقلاب قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کی شہادت پر ایران نے امریکہ کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کیا تھا۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران امریکہ کے خلاف عالمی سطح پر قانونی کارروائی کے لیے اقدامات اٹھائے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے جنرل سلیمانی کو شہید کر کے بہت بڑی غلطی کی ہے، جنرل سلیمانی کی شہادت  پر ردعمل کو قابو کرنا بس سے باہر ہے۔ امریکہ کی بلیک میلنگ اورسازشی مہم سےمغلوب نہیں ہوں گے۔ ایران کسی بھی وقت جواب دینےکاحق رکھتا ہے۔

ایرانی فوج کے ترجمان نے بریگیڈیر جنرل رمضان نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کی خوشی جلد سوگ میں تبدیل کر دیں گے۔

ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد عراق سے ملحق سرحد پر ایرانی لڑاکا طیاروں کی پروازیں جاری ہیں۔

جمعہ کی شب بغداد ائیرپورٹ پر امریکی ڈرون حملے میں جنرل قاسم سلیمانی اور الحشد الشعبی کے رہنما ابو مہدی المہندس سمیت 8 افراد شہید ہو گئے تھے۔

حملے کے بعد وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پرامریکی فوج نے کارروائی کرتے ہوئے ایرانی پاسداران انقلاب قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کو نشانہ بنایا ہے، اور یہ فیصلہ کن کارروائی امریکی اہلکاروں کے تحفظ کے لیے کی گئی ہے۔

دریں اثناء ہزاروں افراد جنرل سلیمانی اور ابو مہدی المہندس سمیت دیگر افراد کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیےعراق کے دارالحکومت بغداد کے گرین زون میں میں جمع ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

عراق کی متحرک پاپولر موبلائزیشن فورسز دونوں فوجی سربراہوں سمیت دیگر شہید افراد کی آخری رسومات میں بھر پور شرکت کی تیاری کررہی ہے۔ جنرل سلیمانی سمیت دیگر شہید ہونے والے اہلکاروں کے جسد خاکی جلوس کی شکل میں کربلا اور پھر نجف لے جایا جائیگا۔

آخری رسومات ادا کرنے کے بعد جلوس کی شکل میں جنرل قاسم سلیمانی کے خاکی کو عراق ایران بارڈر پر پہنچایا جائیگا اور ایران کے حوالے کیا جائیگا۔

دریں اثناء امریکہ نے آج بغداد میں حملے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بغداد میں طبی عملے کے قافلے پر فضائی حملہ نہیں کیا گیا۔

ڈرون حملے میں جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔

دریں اثناء امریکہ نے اپنے تنصیبات کی حفاظت کے اور ممکنہ ایرانی حملے کے پیش نظر مذید 3,000 فوج مشرق وسطیٰ بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

ادھر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے امریکہ اور ایران پر کشیدگی کم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا ایک اور عالمی جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتی ہے۔

install suchtv android app on google app store