کینیڈین وزیر خارجہ کی اسحاق ڈار سے ملاقات، تجارت، سرمایہ کاری اور سکیورٹی تعاون بڑھانے کا عزم

اسلام آباد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں فائل فوٹو اسلام آباد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں

پاکستان اور کینیڈا نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، تجارت و سرمایہ کاری، تعلیم، موسمیاتی تبدیلی، سکیورٹی اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر اتفاق کرنے اور مشترکہ مفادات کے شعبوں میں شراکت داری کو وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

اسلام آباد میں کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور کینیڈین کمپنیوں کو پاکستان میں ابھرتے ہوئے سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلیم، لیبر موبیلٹی، قونصلر امور، سائنس و ٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلی اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ فریقین کی ملاقات میں افغانستان کی صورتحال، انسداد دہشت گردی اور دیگر علاقائی و عالمی امور بھی زیر غور آئے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے جموں و کشمیر تنازع کا معاملہ بھی اٹھایا، جو 1948 سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ایک حل طلب بین الاقوامی تنازع ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے اعلان نے خطے کی پہلے سے کشیدہ صورتحال میں مزید پیچیدگی پیدا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان توقع رکھتا ہے کہ کینیڈا سمیت دوست ممالک بھارت پر زور دیں گے کہ وہ فوری طور پر سندھ طاس معاہدہ بحال کرے، پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی ترک کرے اور بین الاقوامی قوانین اور معاہداتی ذمہ داریوں کی پاسداری کرے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان باہمی احترام، مشترکہ مفادات اور امن، استحکام و خوشحالی کے فروغ کے مشترکہ عزم کی بنیاد پر کینیڈا کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کا خواہاں ہے۔

 انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت کی مشترکہ ترجیحات اور نتائج پر مبنی اعلامیہ بعد میں وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر جاری کیا جائے گا۔

کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا دو دہائیوں میں پہلا دورہ

اس موقع پر کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے کہا کہ تقریباً 20 برس بعد کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پاکستان کا دورہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کینیڈا کے درمیان 80 برس سے سفارتی تعلقات قائم ہیں اور اب اقتصادی تعاون، تجارت اور سرمایہ کاری کو مزید فروغ دینے کا وقت آ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کینیڈا اپنی تجارتی تنوع کی حکمت عملی کے تحت آئندہ دس برسوں میں امریکا سے باہر تجارت کو دوگنا کرنے کا ہدف رکھتا ہے اور اس تناظر میں پاکستان ایک اہم شراکت دار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا میں مقیم 3 لاکھ سے زائد پاکستانی نژاد کینیڈین دونوں ممالک کے درمیان مضبوط پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

انیتا آنند نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور کینیڈا خطے میں کشیدگی میں اضافے پر تشویش رکھتا ہے۔ انہوں نے شہری تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور مسائل کے حل کے لیے سفارتی ذرائع اختیار کریں۔

‘پاکستان نے ایک سال میں 4 لاکھ 70 ہزار ٹن کینیڈین کینولا درآمد کیا’

دوطرفہ تعاون کے حوالے سے انہوں نے اعلان کیا کہ دونوں ممالک نے فارن انویسٹمنٹ پروموشن اینڈ پروٹیکشن ایگریمنٹ (FIPA) کو جلد از جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کو زیادہ اعتماد اور تحفظ حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا پاکستان کے ساتھ زرعی تجارت بڑھانے کا خواہاں ہے اور کینولا، چنے اور دالوں کی برآمدات میں مزید اضافہ متوقع ہے، جبکہ پاکستانی چاول، ٹیکسٹائل اور کھیلوں کا سامان بھی کینیڈا میں مقبول ہو رہا ہے۔

انہوں نے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تعاون کے باعث “پچھلے زرعی سال کے دوران پاکستان نے کینیڈا سے 4 لاکھ 70 ہزار ٹن کینولا سے درآمد کیا”۔

ونڈ پاورمنصوبے پر کے۔الیکٹرک کے ساتھ اشتراک

کینیڈین وزیر خارجہ نے کہا کہ قابل تجدید توانائی، کان کنی اور اہم معدنیات کے شعبوں میں بھی تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کینیڈین کمپنی جے سی ایم پاور کراچی الیکٹرک کے اشتراک سے 240 میگاواٹ کے دھابیجی ہائبرڈ ونڈ اینڈ سولر منصوبے پر جلد کام شروع کرے گی، جبکہ ریکوڈک منصوبے میں کینیڈین سرمایہ کاری دونوں ممالک کے اقتصادی تعاون کی اہم مثال ہے۔

22 لاکھ ڈالر کے 3 نئے سکیورٹی منصوبے

انہوں نے پاکستان کے ساتھ سکیورٹی تعاون کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا 22 لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کے تین نئے سکیورٹی منصوبوں کی مالی معاونت کرے گا، جن پر انٹرپول، اقوام متحدہ کے اداروں اور رائل کینیڈین ماونٹڈ پولیس کے اشتراک سے عملدرآمد کیا جائے گا۔ ان منصوبوں میں بارڈر مینجمنٹ، انسداد دہشت گردی، مالیاتی جرائم کی روک تھام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تربیت شامل ہوگی۔

45 ملین ڈالر کے تین نئے ترقیاتی منصوبے

انیتا آنند نے مزید اعلان کیا کہ کینیڈا پاکستان کے لیے 45 ملین ڈالر مالیت کے تین نئے ترقیاتی منصوبے شروع کرے گا، جن کا مقصد موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی، تعلیم خصوصاً بچیوں کی تعلیم، تولیدی صحت، خاندانی منصوبہ بندی اور مقامی آبادی کی استعداد کار میں اضافہ ہے۔

install suchtv android app on google app store