امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ غزہ بورڈ آف پیس کو اقوام متحدہ کا متبادل بنانے کا ارادہ نہیں ہے، اقوام متحدہ کو اپنا کام جاری رکھنے دینا چاہیے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عہدہ صدارت کو ایک سال مکمل ہونے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو کے لیے جتنا کام میں نے کیا ، کسی شخص یا صدر نے نہیں کیا ، اگر میں ساتھ نہ دیتا تو آج نیٹو موجود ہی نہ ہوتا اور تاریخ میں راکھ کا ڈھیر بن جاتا، افسوس ناک لیکن یہ سچ ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ گرین لینڈ سے متعلق کچھ ایسا کریں گے کہ نیٹو بھی خوش ہو اور ہم بھی۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ غزہ بورڈ آف پیس کو اقوام متحدہ کا متبادل بنانے کا ارادہ نہیں، اقوام متحدہ کو اپنا کام جاری رکھنے دینا چاہیے۔
ساتھ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیرس میں ہونے والے G7 اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ سابق وینزویلا صدر مادورو سے جیل میں ملاقات کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عہدہ صدارت کو ایک سال مکمل ہونے پر پریس کانفرنس میں پاک بھارت جنگ کابھی ذکر کیا اور کہا کہ پاک بھارت جنگ میں لاکھوں لوگ مرسکتے تھے۔
میں نے پاک بھارت جنگ رکوائی، پاک بھارت جنگ نہ رکتی تو 10 سے 20 ملین لوگ مارے جاتے۔ وزیراعظم شہبازشریف نے کہا آپ نے کروڑوں جانیں بچائیں۔
اس کے علاوہ ٹرمپ نے کہا کہ سپریم کورٹ ٹیرف سے متعلق کیا فیصلہ دے گی، معلوم نہیں، کیس ہار گئے تو سیکڑوں ارب ڈالر کے ٹیرف واپس کرنا پڑسکتے ہیں۔
ٹیرف قانونی طور پر نافذ کیے گئے، وصول شدہ ڈیوٹیز واپس کرنا مشکل ہوگا، کئی لوگ متاثر ہوں گے۔