امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کیلئے الاسکا روانہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کے لیے واشنگٹن سے الاسکا روانہ ہو گئے ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جوائنٹ بیس اینڈریوز میری لینڈ سس اپنے خصوصی جہاز ایئر فورس ون سے الاسکا کے لیے روانہ ہو گئے ہیں، جہاں وہ روسی صدر ولادیمیر پیوتن کے ساتھ اہم سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

ایک امریکی عہدیدار نے سی این این کو بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوتن کے درمیان سربراہی اجلاس میں تمام آپشنز میز پر موجود ہوں گے،جن میں یہ امکان بھی شامل ہے کہ اگر ٹرمپ کو محسوس ہوا کہ روسی صدر معاہدہ کرنے میں سنجیدہ نہیں تو وہ اجلاس سے واک آؤٹ کر دیں گے۔

امریکی صدر نے دوران سفر رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ سب کچھ اپنی صحت کے لیے نہیں کر رہا، مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنے ملک پر توجہ دوں لیکن میں یہ سب کئی جانیں بچانے کے لیے کر رہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ولادیمیر پیوتن جنگ ختم کرنے پر رضامند نہ ہوئے تو روس کے لیے اس کے سخت نتائج ہوں گے، ممکنہ اقتصادی اقدامات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جی ہاں، یہ بہت سخت ہوں گے۔

کریملن کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوتن سربراہی اجلاس کا آغاز مترجمین کے ساتھ ایک نجی ملاقات سے کریں گے۔

وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر کے ساتھ 16 اعلیٰ حکام بھی موجود ہوں گے، جن میں وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ، وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک، سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف، وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیوٹ اور امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف سمیت دیگر شامل ہیں۔

یہ واضح نہیں ہے کہ ان میں سے کون سے حکام روسی نمائندوں کے ساتھ ملاقات میں موجود ہوں گے۔

روس کی جانب سے مذاکرات کاروں میں خارجہ پالیسی کے مشیر یوری اوشاکوف، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف، وزیر دفاع آندرے بیلوسوف، وزیر خزانہ آنتون سیلوانوف اور سینئر اقتصادی مذاکرات کار کیرل دمترییف وفد میں شامل ہوں گے۔ اقتصادی امور سے متعلق حکام کی شمولیت اس بات کا اشارہ ہے کہ بات چیت کے نکات جنگ سے آگے بھی جا سکتے ہیں۔

یوکرین کا کوئی بھی عہدیدار اس سربراہی اجلاس میں شریک نہیں ہو گا، حالانکہ کییف اور اس کے یورپی اتحادیوں کی جانب سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ یوکرین کو مذاکرات کی میز پر نمائندگی دی جائے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ ان کا ہدف یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ ایک سہ فریقی ملاقات کی طرف بڑھنا ہے۔

install suchtv android app on google app store