محمد صغیر، جو صاحبزادہ صابر کے نام سے جانے جاتے ہیں، بہاولنگر سے تعلق رکھنے والے نوجوان کاروباری اور ڈیجیٹل مارکیٹر ہیں۔ وہ گزشتہ چند برسوں سے ڈیجیٹل مارکیٹنگ، سوشل میڈیا اور آن لائن کاروبار کے شعبے میں کام کر رہے ہیں۔
صاحبزادہ صابر کے کام میں آن لائن تشہیر، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز شامل ہیں۔ وہ کاروباروں کو اپنی خدمات اور معلومات آن لائن پیش کرنے اور صارفین تک پہنچانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے کاروباری سرگرمیوں کی تشہیر اور صارفین سے رابطہ بھی ان کے کام کا حصہ ہے۔
انہوں نے ڈیجیٹل مارکیٹنگ میں کام کے دوران مختلف آن لائن پلیٹ فارمز کے استعمال کا تجربہ حاصل کیا۔ کاروبار اپنے صارفین تک پہنچنے، اپنی خدمات متعارف کرانے اور نئی معلومات شیئر کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔ صاحبزادہ صابر بھی اسی شعبے میں اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔
بہاولنگر سے تعلق رکھنے کے باوجود انہوں نے اپنے کام کو صرف مقامی سطح تک محدود نہیں رکھا۔ ڈیجیٹل کام کی نوعیت کی وجہ سے وہ آن لائن ذرائع کے ذریعے مختلف کاروباری سرگرمیوں سے منسلک رہ سکتے ہیں۔ ان کے لیے انٹرنیٹ پیشہ ورانہ کام کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ساتھ صاحبزادہ صابر کاروباری سرگرمیوں میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کی توجہ خاص طور پر آن لائن تشہیر اور سوشل میڈیا کے استعمال پر ہے۔ ان کا کام ان کاروباروں سے بھی جڑا ہے جو اپنی خدمات کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے لوگوں تک پہنچانا چاہتے ہیں۔
پاکستان میں سوشل میڈیا اب کاروباری رابطوں کا ایک عام ذریعہ بن چکا ہے۔ بہت سے کاروبار اپنی خدمات اور مصنوعات کے بارے میں معلومات دینے کے لیے فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز استعمال کرتے ہیں۔ اس صورتحال میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ سے واقف افراد کاروباروں کے لیے آن لائن سرگرمیوں کو منظم کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔
24 سالہ محمد صغیر المعروف صاحبزادہ صابر نے بھی اسی شعبے کو اپنے پیشہ ورانہ کام کا حصہ بنایا ہے۔ بہاولنگر سے شروع ہونے والے ان کے سفر میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ، سوشل میڈیا اور آن لائن کاروبار شامل رہے ہیں۔
صاحبزادہ صابر ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے شعبے میں اپنے کام کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی سرگرمیاں آن لائن تشہیر، سوشل میڈیا اور کاروباروں کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال سے متعلق ہیں۔ ان کا پیشہ ورانہ سفر اس بات کی ایک مثال ہے کہ نوجوان اپنے شہروں میں رہتے ہوئے بھی آن لائن شعبوں میں کام کر سکتے ہیں۔