وزارت پاور ڈویژن نے سولر سسٹم ترامیم کے تحت نیپرا لائسنس لازمی قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے سولر سسٹم لگوانے والے تمام صارفین کے لئے نیپرا لائسنس لازمی قرار دے دیا ہے۔
دوسری جانب ملک میں بجلی کی پیداوار میں اضافے کے سبب پیک ٹائم کے دوران بجلی کی فراہمی میں بہتری آنے لگی اور لوڈ شیڈنگ نقصانات والے علاقوں تک محدود ہوگئی۔
ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق صوبوں کی طرف سے ڈیمانڈ کی بدولت پیک ٹائم میں ڈیموں سے زیادہ پانی کے اخراج سے 5125 میگاواٹ بجلی پیدا ہوئی، ملک کے جنوب سے سینٹر میں 400 میگاواٹ گرڈ میں استحکام کی بدولت ترسیل جاری رہی۔
بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے کل رات پیک میں ڈیمانڈ میں اضافے کے باوجود بہتر بجلی سپلائی کی بدولت ایک گھنٹہ سے دو گھنٹے تک کی لوڈ منیجمنٹ کی۔
ملک کے زیادہ نقصانات والے فیڈرز پر پالیسی کے مطابق اکنامک لوڈ منیجمنٹ جاری رہے گی، اکنامک لوڈ منیجنٹ کا پیک ٹائم لوڈ منیجمنٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ترجمان کے مطابق ایل این جی کی دستیابی سے پیک ٹائم لوڈ منیجمنٹ بھی ختم ہوجائے گی، ایل این جی کی عدم دستیابی کی بدولت 5500 میگاواٹ کے پاور پلانٹس سے بجلی پیدا نہیں ہو رہی۔
ترجمان پاور ڈویژن نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سولرنیٹ میٹرنگ کے حوالے سے نیپرا سے لائسنس کے بارے میں پاور ڈویژن یا وفاقی حکومت کے کردار کے حوالے سے غلظ رپورٹنگ کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیپرا لائسنس لینے کے حوالے سے ریگولیشنز موجود ہیں جس کا تعلق ریگولیٹر سے ہے اور ڈسکوز آن ریگولیشنز پرعمل درآمد کراتی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ وفاقی حکومت کے احکامات کو لائسنس سے منسوب کرنا بالکل غلط ہے اوراس حوالے سے وفاقی حکومت یا پاور ڈویژن سے کوئی مؤقف نہیں لیا گیا۔