پنجاب حکومت نے اپنے کلینکس آن وہیلز منصوبے کو آؤٹ سورسنگ کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات تک رسائی کو بہتر بنانا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اس فیصلے کے تحت 791 موبائل کلینکس اور 590 دیہی ایمبولینسز کے انتظامی امور نجی شعبے کے ذمہ سونپے جائیں گے۔ محکمہ صحت نے نجی اداروں سے درخواستیں طلب کر لی ہیں، جن کی آخری تاریخ 26 جنوری 2026 مقرر کی گئی ہے۔
وزیر صحت و آبادی پنجاب خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا اور صحت کے نظام کو مضبوط کرنا ہے تاکہ دیہی اور کم سہولیات والے علاقوں میں طبی سہولیات براہِ راست لوگوں تک پہنچ سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری سے موبائل کلینکس اور دیہی ایمبولینس سروسز کو زیادہ مؤثر طریقے سے چلایا جا سکے گا۔
کلینکس آن وہیلز منصوبہ پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز شریف نے مئی 2025 میں متعارف کرایا تھا، اور اس وقت صوبے بھر میں تقریباً 4 ملین افراد کو خدمات فراہم کرنے کے لیے 200 موبائل کلینکس فعال ہیں۔
حکومت نے مزید اعلان کیا ہے کہ میاںوالی، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، جہلم، ساہیوال، مری اور لیہ سمیت آٹھ شہروں میں جدید ترین کارڈیولوجی سہولیات قائم کی جائیں گی، تاکہ صحت کی سہولیات میں مزید بہتری لائی جا سکے۔
ماہرین صحت کے مطابق ایسے منصوبوں کو تجربہ کار نجی اداروں کے سپرد کرنے سے حکومت پر انتظامی دباؤ کم ہوگا، اور ساتھ ہی تیز ردعمل، طبی آلات کی بہتر دیکھ بھال، اور مریضوں کو بہتر نگہداشت فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔