اگر آپ سمجھتے ہیں کہ دانت صرف مسکراہٹ خوبصورت بنانے کے لیے ہوتے ہیں تو جاپان سے آنے والی نئی تحقیق آپ کی رائے بدل سکتی ہے۔
اوساكا یونیورسٹی کے ماہرین کی ایک بڑی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دانتوں کی صحت براہِ راست انسان کی عمر اور مجموعی صحت سے جڑی ہوئی ہے، خاص طور پر بڑھاپے میں۔
اس تحقیق میں 75 سال یا اس سے زائد عمر کے ایک لاکھ نوے ہزار سے زیادہ افراد کے طبی اور دندان ساز ریکارڈز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
محققین نے ہر دانت کو چار زمروں میں تقسیم کیا: صحت مند، بھرا ہوا (فلنگ والا)، خراب، یا مکمل طور پر غائب۔ نتائج نے سائنسدانوں کو بھی حیران کر دیا۔
تحقیق کے مطابق منہ میں موجود صحت مند اور فلنگ والے دانتوں کی مجموعی تعداد، موت کے خطرے کی پیشگوئی کرنے کا سب سے مضبوط پیمانہ ثابت ہوئی۔
جن افراد کے زیادہ دانت غائب یا خراب تھے، ان میں قبل از وقت موت کا خطرہ نمایاں طور پر زیادہ پایا گیا۔ حیران کن طور پر فلنگ والے دانت بھی صحت مند دانتوں جتنے ہی فائدہ مند ثابت ہوئے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دانتوں کا علاج کروانا صرف منہ ہی نہیں بلکہ پورے جسم کی صحت کے لیے اہم ہے۔
ماہرین نے دانتوں کے ضیاع اور موت کے خطرے کے درمیان تعلق کی دو بڑی وجوہات بیان کیں۔ پہلی وجہ مسلسل سوزش (Chronic Inflammation) ہے، جو دانتوں کے کیڑے یا مسوڑھوں کی بیماری سے شروع ہو کر جسم کے دیگر حصوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
دوسری بڑی وجہ غذائی مسائل ہیں، کیونکہ دانت کم ہونے سے چبانے میں دشواری ہوتی ہے، جس کے باعث متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک لینا مشکل ہو جاتا ہے۔
اسی حوالے سے ٹوکیو انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کی ایک اور تحقیق نے ’’اورل فریلٹی‘‘ یعنی منہ کی کمزوری کے تصور پر بھی روشنی ڈالی۔
تحقیق کے مطابق جن بزرگ افراد میں دانتوں کا گرنا، چبانے یا نگلنے میں دشواری، منہ کا خشک رہنا اور بولنے کے مسائل جیسے تین یا زیادہ مسائل موجود ہوں، ان میں طویل مدتی نگہداشت کی ضرورت اور موت کا خطرہ نمایاں طور پر زیادہ ہوتا ہے۔