چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے راولا کوٹ اورمیرپور سے متعلق بیان پر وزیردفاع خواجہ آصف سے معافی مانگنے یا عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کردیا۔ بلاول بھٹو نے کہا مظفرآباد میں ان کے قائدین نے تقریر کی لیکن اپنے وزیر کے بیان کی مذمت نہیں کی، آپ کون ہو فیصلہ کرنے والے کہ کشمیری کون ہے؟ کل نا سابق وزیرا عظم اور نہ وزیر اعلی پنجاب نے اپنے وزیر کے بیان کی مذمت کی، اس سے لگتا ہے کہ آپ اپنے وزیر کی بیان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے ایل اے 3 میرپورسٹی میں پیپلزپارٹی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ راولا کوٹ اور میرپور کے بارے میں جو وزیر کہہ رہے ہیں حکومت کو تو احساس ہی نہیں، میرا مطالبہ ہے کہ وزیر کے بیان پر معافی مانگیں یا عہدہ چھوڑیں، تم کون ہوتے ہو یہ فیصلہ کرنے والے کہ میرپور اور راولا کوٹ کشمیر نہیں، کشمیر پیپلزپارٹی کے ساتھ ہے ان کے ساتھ نہیں جو کشمیر مخالف بیانات دیتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا مظفرآباد میں ان کے قائدین نے تقریر کی لیکن اپنے وزیر کے بیان کی مذمت نہیں کی، آپ کون ہو فیصلہ کرنے والے کہ کشمیری کون ہے؟ کل نا سابق وزیرا عظم اور نہ وزیر اعلی پنجاب نے اپنے وزیر کے بیان کی مذمت کی، اس سے لگتا ہے کہ آپ اپنے وزیر کی بیان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
بلاول نے کہا یہ لوگ ایسے بات کرتے ہیں جیسے نہ باپ وزیر اعظم رہا ہے نہ چاچا وزیر اعظم ہے، جو لوگ قصور کو لاہور نہیں بنا سکے وہ گلگت بلتستان کو کیا لاہور بنائیں گے، یہ ایسے شیر ہیں جو حقوق دیتے نہیں حقوق کھاتے ہیں، ن لیگ والے آپ کے پیر پڑ رہے ہیں ، الیکشن نکل جائیں گے تو یہ لوگ آپ کے گلے پڑ جائیں گے۔
بلاول بھٹو نے سوال کیا کہ کیا انہوں نےکبھی دیکھا ہےکہ چولستان، پوٹھوہار، راجن پور، وہاڑی کا حال کیا ہے؟ یہ کہتے تھےکہ ہم گلگت بلتستان کو لاہور بنادیں گے لیکن جی بی کے لوگ نہیں مانے، جی بی کے لوگوں نے کہا کہ جب یہ اپنی حکومت میں کچھ نہ بناسکے تو جی بی کو کیا بنائیں گے، یہ ایسی باتیں کرتے ہیں کہ بندہ سوچتا ہے کہ کچھ کہوں یا نہ کہوں، یہ چاہتے ہیں کہ آئین میں ترمیم کریں اور آزاد کشمیر کے وزیراعظم کا فیصلہ عوام نہیں پاکستان کا وزیراعظم کرے، یہ چاہتے ہیں کہ رائے ونڈ کا شہری جو چار بار وزیراعظم بنا ہے وہ آزادکشمیر کا بھی وزیراعظم بنے۔
بلاول بھٹو نے ن لیگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا یہ ایسے بات کرتے ہیں جیسے پنجاب میں ہر علاقے میں دودھ شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں، یہ ایسے بات کرتے ہیں جیسے والد اور چچا وزیراعظم یا وزیراعلیٰ نہ رہے ہوں، عوام کو بتائیں تین تین بار حکومت رہی کوئی سڑک بنانی تھی تو بناکر دکھا دیتے۔
چیئرمین پییلزپارٹی نے کہا عوام کی کیا غلطی ہے کہ آج آزادکشمیر کے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے، احتجاج جب پر امن نہیں رہتا تو پھر نقصان ہوتا ہے، جیسے احتجاج کرنے والے عوام کو سزا دے رہے ہیں ویسے ہی ریاست بھی سزا عوام کو دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا قبائلی علاقوں میں ایف سی آر کا قانون تھا کوئی جرم ہوتا تھا تو پورے گاؤں کو سزا سنائی جاتی تھی، عوام کا کیا قصور ہے یہاں انٹرنیٹ بھی نہیں چل رہا ہے، یہ عوام کے ساتھ ظلم ہے، ہمیں حکومت ملی تو صورتحال کو سنواریں گے خراب نہیں کریں گے۔
بلاول بھٹو بولے میرپور سے میرا تعلق آج کا نہیں تین نسلوں کا ہے، میرپور آزاد کشمیر آتا ہوں تو ایسا لگتا ہے اپنے دوسرے گھر آیا ہوں، آزاد کشمیر کا یہ الیکشن عام الیکشن نہیں شاید تاریخ کے سب سے اہم انتخابات ہے، اس الیکشن میں آپ کے انتخاب سے آزاد کشمیر کا مستقبل جڑا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو آئین دیا اور متفقہ آئین دیا، یہ متفقہ اور اسلامی آئین ذوالفقار علی بھٹو کا تحفہ ہے، مسلم ممالک میں صرف ایک ہی ایٹمی طاقت ہے اور یہ قائد عوام کا دیا ہوا ایٹم بم ہے۔
بلاول کا کہنا تھا صدر زرداری نے 18 ویں ترمیم میں صوبوں کے حقوق حاصل کرکے تاریخ رقم کردی ہے، اب اس الیکشن میں آزاد کشمیر کے عوام کو تاریخ رقم کرنی ہے، گلگت بلتستان کے عوام نے حق حاکمیت، حقوق اور حق ملکیت کے منشور پر ووٹ دیا، حق حاکمیت اور حق ملکیت گلگت بلتستان کے عوام کو دلوا کر دکھاؤں گا، یہی منشور میں آج آزاد کشمیر کے عوام کے لیے لایا ہوں، آزاد کشمیر کے عوام کو وہ حقوق دلانا چاہتا ہوں جو پاکستان کے عوام کے پاس ہیں، چاہتا ہوں کہ آزاد کشمیر کے عوام کو حقوق ملیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ حق حاکمیت اور ملکیت کا اصول صرف 12 نشستوں سے متعلق نہیں، جو سمجھتے ہیں کہ 12 نشستیں ان کی جیب میں ہیں پھر وہ آپ سے ناانصافی کرتے ہیں، حق حاکمیت کے سوال کے لیے جدوجہد 12 نشستوں تک محدود نہ رکھیں، میں یہ بات نہیں مانتاکہ مہاجرین کو ووٹ نہ دیں، مہاجرین کو ووٹ بھی دیں اور الیکشن بھی لڑیں مگر آزاد کشمیر کا فیصلہ عوام کریں گے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ قائد عوام نےکہا تھاکہ ہزار سال جنگ لڑنے کو تیار ہیں مگر آزاد کشمیر کے عوام اب پرانی تنخواہ پر چلنے پر تیار نہیں، میں چاہتا ہوں کہ آزاد کشمیر کا وزیرخارجہ ہر فورم پر عوام کیلئے آواز اٹھائے، چاہتا ہوں آزاد کشمیر کے عوام کا نمائندہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بھی بیٹھے، سندھ ، بلوچستان ،پنجاب یا خیبرپختونخوا ہو، ہمارا منشور واضح ہے کہ حق ملکیت عوام کا ہے، پی پی وہ جماعت ہے جو لوگوں کے لیے روزگار کا بندوبست کرتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ قائد عوام نے ملک کے اندر بھی اور بیرون ملک بھی نوجوانوں کو روزگار دلایا، بے نظیر بھٹو کہتی تھیں کہ اگر روزگار دینا جرم ہے تو بار بار کریں گے، خطے میں جنگ رکتی نہیں تو مہنگائی بڑھے گی، ایسے میں ایسی حکومت چاہیے جو روزگار بڑھائے، روزگار میں اضافے کا کام صرف پیپلزپارٹی ہی کرسکتی ہے ، بلاول بھٹو زرداری
بلاول بولے اختلاف رائے سے قومیں مضبوط ہوتی ہیں کمزور نہیں ہوتیں، اس وقت جو صورتحال چل رہی ہے یہ مناسب نہیں، میں نے پلان دیا جس سے مسائل حل ہوسکتے ہیں، میں نے تجویر دی کہ کمیشن قائم کیا جائے جو تحقیقات کرے کہ حقائق کیا ہیں، اگر کسی نے جرم کیا ہے تو اس کو سزا دی جائے، بے گناہ کو کچھ نہ کہا جائے، میری تجویز پر کسی فریق نے اب تک جواب نہیں دیا، سب سے درخواست ہے اگر ان کے پاس کوئی طریقہ ہے تو بتادیں یا اس تجویز پر مسئلہ حل کریں۔