وفاقی وزیر کشمیریوں سے معافی مانگیں یا وزارت چھوڑ دیں: بلاول بھٹو

  • اپ ڈیٹ:
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری فائل فوٹو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر کشمیریوں سے معافی مانگیں یا وزارت چھوڑ دیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ اگر ٹرتھ کمیشن کے قیام پر اتفاق ہو جائے تو مظاہرین اپنا احتجاج عارضی طور پر موخر کر دیں، جبکہ حکومت بھی کمیشن کی رپورٹ آنے تک مزید کارروائیاں روک دے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر مہم کے دوران احتجاج کرنے والوں کی جانب سے انہیں ایک خط موصول ہوا، جس کے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ کشمیری عوام کو موجودہ مشکلات سے نکالنے کا ایک پرامن راستہ موجود ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ اگر ٹرتھ کمیشن کے قیام پر اتفاق ہو جائے تو مظاہرین اپنا احتجاج عارضی طور پر موخر کر دیں، جبکہ حکومت بھی کمیشن کی رپورٹ آنے تک مزید کارروائیاں روک دے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ صرف 12 نشستوں کا نہیں بلکہ کشمیری عوام کے حقوق اور حق حکمرانی کا معاملہ ہے۔ کشمیر کے فیصلے کسی فرد یا جماعت کی مرضی سے نہیں بلکہ کشمیری عوام کو خود کرنے چاہیئیں۔

انہوں نے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے لیے آئینی کنونشن بلانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ ماہرین کی مشاورت سے کشمیری عوام کو مزید آئینی، سیاسی اور معاشی حقوق دینے کا طریقہ کار طے کیا جانا چاہیے، جبکہ مخصوص نشستوں یا آئینی ترامیم سے متعلق فیصلے بھی کشمیری عوام کی رائے سے ہونے چاہیئیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس کی بندش پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی خدشات والے چند علاقوں کے علاوہ پورے خطے میں مواصلاتی پابندیاں درست نہیں۔

انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ بندش سے انتخابی مہم، عوامی رابطے اور شہری زندگی متاثر ہو رہی ہے، اس لیے الیکشن کمیشن سے پابندیاں ختم کرنے کی درخواست کی جائے گی۔

بلاول بھٹو نے وفاقی وزیر کے بعض حالیہ بیانات کو توہین آمیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے بیانات سے کشمیری عوام کی دل آزاری ہوئی ہے تو انہیں معافی مانگنی چاہیے یا پھر اپنے عہدے سے الگ ہو جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت وفاقی کابینہ میں شامل ہونے کی خواہش نہیں رکھتی اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی رابطہ ہوا ہے۔ انہوں نے انتخابی نظام میں اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام کا انتخابی عمل پر اعتماد بحال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ مضبوط جمہوریت ہی پاکستان کے استحکام کی ضمانت ہے۔

مولانا فضل الرحمان کے بیانات سے متعلق انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک سینئر سیاستدان ہیں، وہ عام طور پر بڑے محتاط رہتے ہیں۔ اور کشمیر کے دورے کے دوران مولانا فضل الرحمان کا مجھے فون بھی آیا تھا۔ میری خواہش ہو گی کہ یہ منفی تاثر نہ جائے جو مولانا فضل الرحمان کی حالیہ تقریر سے گیا ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اپنی تقریر سے پیدا ہونے والے منفی تاثر کو خود اپنے الفاظ کے ذریعے دور کر سکتے ہیں۔ مولانا صاحب حکومت سے تھوڑے ناراض ہیں، غصہ کم ہونے پر ضرور غور کریں گے کہ الفاظ کا چناؤ بہتر ہو سکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی کامیابی چاہتا ہوں کیونکہ ان کی کامیابی کا مطلب پاکستان کی کامیابی ہے۔ تاہم وزیر اعظم کے آس پاس کچھ ایسے افراد ہیں جو انہیں غلط گائیڈ کر کے مسائل میں اضافے کی وجہ بنتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کا وفاقی کابینہ میں شامل ہونے کے حوالے سے نہ کوئی رابطہ ہوا ہے اور نہ ہی ایسی کوئی خواہش ہے۔ جبکہ انتخابی نظام پر پیپلز پارٹی کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کے نظام میں دھاندلی کا سلسلہ پیپلزپارٹی کے خلاف شروع ہوا تھا۔ اور الیکشن کمیشن کو انتخابی عمل کے خلاف سب سے زیادہ شکایتیں پیپلز پارٹی نے جمع کرائیں۔ پاکستان کے انتخابی نظام میں سب کو مل کر بہتری لانا ہو گی۔

انہوں ںے کہا کہ الیکشن پر جتنا زیادہ اعتماد ہو گا اتنا ہی عوام کا نظام پر اعتماد بڑھے گا اور وہ فیصلوں میں اپنا حصہ محسوس کریں گے۔ موقع اور حمایت ملی تو ہم پاکستان کے انتخابی نظام میں مزید تبدیلیاں لائیں گے۔

install suchtv android app on google app store