گلگت بلتستان اسمبلی کے 24 حلقوں میں انتخاب عمل جاری ہے، ووٹنگ کے بعد اب گنتی اور نتائج موصولی کا سلسلہ جاری ہے۔ غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق جی بی اے گلگت 1 میں 80 میں سے 10 پولنگ اسٹیشز کے موصولہ نتائج کے مطابق پی پی کے امیدوار امجد حسین 1553 ووٹ کے ساتھ پہلے، ایم ڈبلیو ایم پی کے امیدوار محمد الیاس صدیقی635 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
جی بی اے 2 سے چند پولنگ اسٹیشن کے نتائج موصول ہوئے ہیں جس کے مطابق مسلم لیگ ن کے حافظ حفیظ الرحمن کو دیگر امیدواروں پر سبقت حاصل ہے، پیپلز پارٹی کے جمیل احمد دوسرے اور آئی پی پی کے امیدوار فتح اللہ خان تیسرے نمبر پر ہیں۔
جی بی اے 6 ہنزہ میں 88 میں سے پانچ پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدوار امتیاز الحق آگے اور آزاد امیدوار نیک نام کریم دوسرے نمبر پر ہیں۔
جی بی اے 9 اسکردو 3 میں پیپلز پارٹی کے امیدوار فدا محمد ناشاد آگے اور ایم ڈبلیو ایم پی کے امیدوار وزیر اظہر مہدی پیچھے ہیں۔
جی بی اے 10 اسکردو میں پیپلز پارٹی کے امیدوار راجہ ناصر علی خان آگے اور ایم ڈبلیو ایم پی کے امیدوار مشتاق حسین دوسرے نمبر پر ہیں۔
جی بی اے 15 دیامر ون میں آزاد امیدوار محمد دلپذیر آگے اور پی ایم ایل این کے عبدالواجد دوسرے نمبر پر ہیں۔
جی بی اے 16 دیامر2 میں آئی پی پی کے امیدوار عتیق اللہ آگے اور ن لیگ کے محمد انور دوسرے نمبر پر ہیں۔
جی بی اے 19 غذر ون میں آزاد امیدوار نواز خان آگے اور ن لیگ کے امیدوار ظفر محمد دوسرے نمبر پر ہیں۔
جی بی اے 20 غذر ٹو میں آزاد امیدوار صفدر علی شیرازی آگے اور ن لیگ کے امیدوار عبدالجہان دوسرے نمبر پر ہیں۔
جی بی اے 21 غذر میں آزاد امیدوار امان علی آگے اور ن لیگ کے امیدوار غلام محمد دوسرے نمبر پر ہیں۔
جی بی 23 اے کے 48 میں سے 22 پولنگ اسٹیشن کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدوار انور علی 6596 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں جب کہ آزاد امیدوار عبدالحمید دوسرے اور عبدالرحیم تیسرے نمبر پر ہیں۔
الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کو جانے والے راستوں کو بند کردیا گیا، الیکشن کمیشن آفس کے سامنے خاردار تاریں اور ٹرک کھڑے کردئیے گئے، الیکشن کمیشن آفس تک صرف سرکاری گاڑیوں کو جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
گلگت بلتستان اسمبلی کل 33 نشستوں پر مشتمل ہے۔ 24 براہ راست منتخب ارکان، 6 خواتین نشستیں، 3 نشستیں ٹیکنو کریٹس کیلیے مختص ہیں۔
حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو 17 نشستوں کی سادہ اکثریت درکار ہے۔ پیپلز پارٹی کے 23 امیدوار، ن لیگ کے 22، استحکامِ پاکستان پارٹی کے 15، پاکستان مسلم لیگ کے 11اور جے یو آئی ف کے 9 امیدوارمیدان میں ہیں۔
علاوہ ازیں ایم ڈبلیو ایم 7، جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے 6،6 امیدوار بھی انتخابی دوڑ میں شامل ہیں جبکہ 266 آزاد امیدوار اور 7 خواتین امیدوار بھی الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں۔
الیکشن کے لیے رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 9 لاکھ 58 ہزار780 ہے جن میں مرد ووٹرز کی تعداد 5 لاکھ 3 ہزار 772 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 4 لاکھ 54 ہزار 708 ہے۔
24 حلقوں میں 396 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں 266 آزاد امیدوار ہیں۔ دیامر اور اسکردو سیاسی طور پر انتہائی اہم اضلاع ہیں دونوں اضلاع میں چار، چار انتخابی حلقے ہیں۔
گلگت، غذر اور گانچھے میں تین، تین انتخابی حلقے جبکہ نگر اور استور کے حصے میں دو، دو انتخابی حلقے ہیں۔
اس کے علاوہ ہنزہ، شگر اور کھرمنگ چھوٹے اضلاع ہیں اور ان میں سے ہر ایک ضلع میں ایک، ایک انتخابی حلقہ ہے۔
انتخابات کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ ضلع دیامر میں دفعہ 144 نافذ ہے۔
انتخابات کے لیے 1368پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، انتخابی عمل کے دوران 15 ہزار پولیس اہلکار سکیورٹی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
الیکشن کے لیے 1368 پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں جن میں سے480 پولنگ اسٹیشن انتہائی حساس، 350 حساس، 457 نارمل قرار دیئے گئے ہیں۔