بارشوں سے آبی ذخائر میں پانی کی سطح میں ریکارڈ اضافہ، کچھ دریائوں میں اونچے درجے کا سیلاب

دریا فائل فوٹو دریا

ملک بھر میں برسنے والی بارشوں کے بعد ملک کے بڑے آبی ذخائر اپنی کل گنجائش تک بھر گئے جبکہ کچھ دریاؤں میں درمیانے سے اونچے درجے کا سیلاب دیکھنے میں بھی آیا۔

وفاقی کمیشن برائے سیلاب (ایف ایف سی) اور واٹر اینڈ پاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے کہا کہ تربیلا اور منگلا ڈیمز اپنی مجموعی گنجائش یعنی ایک ہزار 550 اور ایک ہزار 242 فٹ تک بھر چکے ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ایف ایف سی نے ڈیمز کے بھرنے کا ذمہ دار واپڈا اور انڈس ریور اتھارٹی (ارسا) کے آبی ذخائر میں پانی کی آمد اور بہاؤ کے مؤثر انتظام کو قرار دیا۔

کمیشن نے ڈیمز کو آپریٹ کرنے والی اتھارٹیز بشمول ارسا، فلڈ مانیٹرگ سیل منگلا اور پاکستان محکمہ موسمیات کو تجویز دی کہ آبی ذخائر کا حتی الامکان خیال رکھا جائے اوران کے افعال پر زیادہ بہتر نظر رکھی جائے۔

دوسری جانب تربیلہ، منگلا اور چشمہ کی مجموعی گنجائش جمعہ کے روز 13.425 ملین ایکڑ فیٹ (ایم اے ایف) رپورٹ کی گئی تھی جو 13.614 ایم اے ایف کی مجموعی گنجائش کا 98.61 فیصد ہے اور یہ گزشتہ 10 سالوں میں پانی کی دستیابی کی ریکارڈ سطح ہے۔

واپڈا نے کہا کہ تربیلہ اور منگلا ڈیمز میں دستیاب پانی گزشتہ 10 سال کی اوسط سطح سے 2.173 ایم اے ایف زائد ہے، دونوں ڈیمز میں گزشتہ 10 سالوں کے دوران پانی کی دستیابی کی اوسط سطح 11.163 ریکارڈ کی گئی تھی۔

بہتر آبی صورتحال آئندہ آنے والے دنوں میں ملک کی زرعی ضروریات کو مناسب طریقے سے پورا کرے گی جبکہ آبی ذخائر میں مزید پانی کی دستیابی کے نتیجے میں بجلی بھی مزید پیدا ہوگی۔

واپڈا کے ہائیڈرو پاور اسٹیشنز گزشتہ دو روز سے 8500 میگا واٹ بجلی فراہم کرررہے ہیں اور آئندہ چند روز میں بجلی کی پیداوار 9 ہزار میگا واٹ تک پہنچ سکتی ہے۔

ایف ایف ڈی کے مطابق دریائے چناب کے بالائی حصے میں شدید بارشوں کے نتیجے میں مرالہ خانکی ریچ میں بلند سیلابی اخراج ہوا جبکہ قادر آباد میں درمیانے درجے کا سیلاب دیکھا گیا۔

کمیشن کے مطابق تربیلہ، چشمہ، گدو سکھر کے مقام پر دریائے سندھ جبکہ منگلا رسول پر دریائے جہلم اور چکدرہ برج پر دریائے سوات میں نچلے درجے کا سیلاب ہے جبکہ دیگر بڑے دریا راوی ستلج کی صورتحال معمول کے مطابق ہے۔

install suchtv android app on google app store