اسلام آباد اور آزاد کشمیر سمیت ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے سے کم از کم 37 افراد جاں بحق جبکہ 500 سے زائد زخمی ہوگئے۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5.8 ریکارڈ کی گئی اور اس کا مرکز جہلم سے 5 کلو میٹر شمال کی طرف تھا جب کہ گہرائی زیر زمین 10 کلو میٹر تھی۔
زمین میں گہرائی کم ہونے کی وجہ سے قریبی علاقوں میں زیادہ نقصانات کا خدشہ ہے۔
سہ پہر 4 بج کر 2 منٹ پر آنے والے زلزلے سے سب سے زیادہ تباہی کی اطلاعات آزاد کشمیر کے علاقے میرپور سے ملی ہیں جہاں متعدد گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔

سڑکیں تباہ ہونے کے باعث کئی علاقوں سے زخمیوں کو اسپتالوں تک پہنچانے میں دشواری کا سامنا ہے۔
محکمہ داخلہ آزاد کشمیر نے وزیر اعظم آزاد کشمیر کو زلزلے سے متعلق ابتدائی رپورٹ بھیجی ہے جس کے مطابق زلزلے میں 37 افراد جاں بحق اور 500 سے زائد زخمی ہوئے۔
اسپتال ذرائع کے مطابق جاں بحق افراد میں 2 خواتین اور ایک بچی بھی شامل ہے۔
میرپور کے علاقے جاتلاں سے موصول ہونے والی ویڈیوز اور تصاویر میں شدید تباہی کے مناظر کو دیکھا جا سکتا ہے۔ وہاں پر متعدد سڑکوں میں بڑے بڑے شگاف پڑ گئے ہیں اور متعدد گاڑیاں ان میں الٹ گئی ہیں۔

ڈپٹی کمشنر میر پور آزاد کشمیر راجہ قیصر نے زلزلے کے نتیجے میں ایک خاتون کی بھی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ زخمی بھی ہیں تاہم ان کی تعداد کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
راجہ قیصر کا کہناتھا کہ پاک فوج ، این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے اور دیگر ریسکیو اداروں نے اپنا کام شروع کردیا ہے اور نقصانات کے حوالے سے معلومات اکٹھی کی جارہی ہیں۔
وزیراعظم کی متعلقہ محکموں کو معاونت کی ہدایت
وزیراعظم عمران خان نے زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
وزیر اعظم نے متاثرہ علاقے میں ریلیف کے سلسلے میں متعلقہ محکموں کو ہر قسم کی معاونت کی فوری فراہمی کی ہدایت کی ہے۔
خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان اِن دنوں امریکا میں موجود ہیں جہاں وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔
آرمی چیف کی زلزلہ متاثرین کیلئے ریسکیو آپریشن کی ہدایت
زلزلے کے بعد ریسکو اداروں کے ساتھ ساتھ شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک دوسرے کی مدد کی جبکہ پاک فوج کے سربراہ کی جانب سے بھی سول انتظامیہ کی مدد کی ہدایات جاری کردی گئی۔
COAS directs immediate rescue operation in aid of civil administration for victims of earthquake in AJK. Army troops with aviation and medical support teams dispatched.
— DG ISPR (@OfficialDGISPR) September 24, 2019
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ 'چیف آف آرمی اسٹاف نے آزاد جموں کشمیر میں زلزلے کے متاثرین کے لیے سول انتظامیہ کے ساتھ فوری طور پر ریسکیو آپریشن کی ہدایت کردی'۔
انہوں نے بتایا کہ طبی ٹیمیں اور ایوی ایشن کے ساتھ فوجی دستے فوری طور پر روانہ کردیے گئے۔
چیئرمین این ڈی ایم اے
نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹنٹ جنرل محمد محمد افضل نے پریس کانفرنس میں 10 ہلاکتوں کی تصدیق کی۔
ان کا کہنا تھا کہ زلزلے سے 10 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں کام کر رہی ہیں، بارشوں کی پیش نظر ٹینٹ،کمبل دیگر اشیاء رات تک متاثرہ علاقوں میں پہنچائیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ پہلے ایک سے 2 روز ہمارا فوکس ریسکیو آپریشن پر ہو گا جس کے بعد متاثرین کی بحالی کا عمل شروع کیا جائے گا۔

چیئرمین این ڈی ایم اے کے مطابق منگلا ڈیم کو نقصان نہیں پہنچا، احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے ٹربائن بند کی تھیں، ابھی حالات ہمارے کنٹرول میں ہیں، اگر ضرورت پڑی تو عوام سے مدد کی اپیل کریں گے۔
قبل ازیں میڈیا سے گفتگو میں چیئرمین این ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ زلزے کا مرکز جہلم اور میرپور کا علاقہ تھا۔
انہوں نے بتایا کہ جن علاقوں میں زیادہ نقصان ہوا ہے، وہ دور دراز کے علاقے نہیں ہیں،بہت جلد وہاں امدادی کارروائیاں شروع کردی جائیں گی جب کہ متعدد علاقوں میں سویلین انتظامیہ کی جانب سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ زلزلے سے میرپور کے ایک قصبے میں سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔
آزاد کشمیر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی
وزیراطلاعات آزاد کشمیر مشتاق منہاس کا کہنا ہے کہ زلزلے کے بعد آزاد کشمیر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور وزیراعظم آزاد کشمیر فاروق حیدر نے اپنا دورہ ملتوی کردیا ہے اور وہ خود امدادی کارروائیوں کی نگرانی کررہے ہیں۔
مشتاق منہاس کا کہنا ہے اپر جہلم نہر میں شگاف پڑنے سے قریبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے جب کہ آزاد کشمیر حکومت کے پاس اس وقت ایسے وسائل نہیں کہ شگاف بند کرسکے۔
انہوں نے کہا کہ پاک فوج، وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کی جانب سے امداد کی ضرورت ہے۔
صدرمملکت کا جانی و مالی نقصانات پر دکھ کا اظہار
صدر پاکستان عارف علوی نے آزاد کشمیر میں زلزلے سے جانی اور مالی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
صدرمملکت نے زلزلے میں جاں بحق افراد کی بلندی درجات کے لیے دعا کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہار یکجہتی کیاہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعا کی ہے
پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں بھی جھٹکے محسوس کیے گئے
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5.8 ریکارڈ کی گئی اور اس کا مرکز جہلم سے 5 کلو میٹر شمال کی طرف تھا جب کہ گہرائی زیر زمین 10 کلو میٹر تھی۔
پنجاب میں خوشاب، سرگودھا، فیصل آباد، گوجرانوالہ، میانوالی، منڈی بہاؤالدین، ملتان، اوکاڑہ، قصور، خانیوال، گجرات، کامونکی، مریدکے، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، ساہیوال، پتوکی، چونیاں، پاکپتن، دیپالپور، حجرہ شاہ مقیم، نارنگ منڈی اور سیالکوٹ میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں جب کہ میرپور آزاد کشمیر، بھمبھر میں بھی جھٹکے محسوس کیے گئے۔
اس کے علاوہ خیبرپختونخوا میں پشاور، چارسدہ، سوات، خیبر، ایبٹ آباد، باجوڑ، نوشہرہ، مانسہرہ،بٹگرام، تورغر، شانگلہ، بونیر، دیر،اپر دیر، لوئر،چترال، مالاکنڈ اور کوہستان میں بھی زلزلے کی جھٹکے محسوس کیے گئے۔
زلزلے کے باعث لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔
یاد رہے کہ آٹھ اکتوبر 2005 کی صبح آزاد کشمیر میں آنے والے زلزلہ نے آزاد کشمیر اور شمالی علاقوں کو اس بری طرح جھنجوڑا کہ 80000 انسان لقمہ اجل بن گئے جب کہ ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ لوگ زخمی ہوئے۔
2005 میں سات اعشاریہ چھ شدت کےاس زلزلہ کا مرکز مظفرآباد سے بیس کلومیٹر شمال مشرق میں تھا ابتدائی نقصان کا تخمینہ تقریبا 124ارب روپے لگایا گیا۔