ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ ایران کے تیل بردار جہازوں سے متعلق معاملات ایران اور متعلقہ حکومتوں کے درمیان ہیں اور پاکستان کا اس حوالے سے کوئی مخصوص مؤقف نہیں ہے۔ ہفتہ وار بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ ایران اور بھارت کے درمیان پیش آنے والے معاملات پر بھی پاکستان براہ راست تبصرہ نہیں کر سکتا۔
سفارتی رابطے جاری
ترجمان کے مطابق پاکستانی قیادت کے خطے کے اہم ممالک کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطے جاری ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ایرانی وزیر خارجہ سے تین مرتبہ گفتگو ہو چکی ہے۔
اسی طرح وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ کر کے خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
خلیجی ممالک سے روابط
ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم جلد سعودی عرب کا دورہ کریں گے جبکہ عمان اور متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی قیادت کے ساتھ بھی متعدد ٹیلیفونک رابطے ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں پل کا کردار ادا کرتے ہوئے مختلف دارالحکومتوں کے درمیان رابطوں کو فروغ دے رہا ہے اور پاکستان کا مؤقف ہے کہ تمام تنازعات کا حل بین الاقوامی قانون، خودمختاری کے احترام اور مکالمے کے ذریعے ہونا چاہیے۔
آبنائے ہرمز اور افغانستان سے متعلق مؤقف
ترجمان کے مطابق آبنائے ہرمز سے متعلق ممکنہ رابطوں کی حتمی تصدیق نہیں کی جا سکتی تاہم دفاعی اور عسکری حکام ایرانی ہم منصبوں سے رابطے میں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان کے رویے میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی، جبکہ ایک وفد کا افغانستان کا دورہ نجی حیثیت میں ہے اور افغانستان سے متعلق ایک مذاکراتی عمل جاری ہے۔
ترجمان کے مطابق جلد چین کے نمائندہ خصوصی کی قیادت میں ایک وفد پاکستان کا دورہ بھی کرے گا، جبکہ افغان طالبان کی جانب سے حالیہ دنوں میں 50 سے زائد مقامات پر جارحیت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔