وادی تیراہ کی نقل مکانی صرف موسمی ہے کوئی فوجی آپریشن نہیں، وزیر داخلہ

وادی تیراہ کی نقل مکانی صرف موسمی ہے کوئی فوجی آپریشن نہیں، وزیر داخلہ فائل فوٹو وادی تیراہ کی نقل مکانی صرف موسمی ہے کوئی فوجی آپریشن نہیں، وزیر داخلہ

وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وادیِ تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں ہو رہا۔ کے پی کی حکومت اپنی ناکامیاں فوج اور اس آپریشن پر ڈالنا چاہتی ہے جس کا وجود ہی نہیں۔ سردیوں میں انخلاء انوکھی چیز نہیں لیکن پی ٹی آئی حکومت نے اسے انوکھا بنا دیا۔ تیراہ میں جو کیمپس بنائے گئے وہ ناکافی ہیں، چار ارب روپے کے انتظامات نظر نہیں آرہے۔ یہ چار ارب روپے کہاں لگا، کتنا لگا، کتنا باقی ہے، یہ احتساب ہونا چاہیے۔ جس نوٹیفیکیشن کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں وہ نوٹیفیکیشن تو صوبائی حکومت کا اپنا ہے، واپس لینا ہے تو واپس لے لیں۔

خواجہ آصف نے کہا، تیراہ ویلی کے حوالے سے جو تنازعہ چل رہا، اس پر موقف دینے کے لیے پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، تیراہ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کر رہے ہیں۔ "وہاں کوئی آپریشن ہو ہی نہیں رہا". پاک افغان بارڈر پر جتنی وادیاں، علاقے ہیں، سخت سردیوں میں انخلاء ان علاقوں کی روٹین ہے۔ خواجہ آسف نے بتایا کہ سردیوں میں انخلا (موسم کی وجہ سے عارضی ہجرت) کا یہ سلسلہ برٹش راج سے چلا آ رہا ہے۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے مشران کا جرگہ ہوا، ٹی ٹی پی کے پاس گئے، پھر صوبائی حکومت سے ملے۔

خواہ آصف نے بتایا کہ تیراہ میں ٹی ٹی پی موجود ہے۔ ٹی ٹی پی بال بچوں سمیت وہاں رہتے ہیں، ان کی چار پانچ سو تعداد ہے۔ ہمیں جہاں ان کی موجودگی کی اطلاع ملتی ہے وہاں ہم انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہیں۔ خواجہ آصف نے بتایا کہ مقامی لوگوں (مشران) نے صوبائی حکومت کے ساتھ مذاکرات کیےصوبائی حکومت نے چار ارب روپے کا مائیگریشن کا پیکج طے کیا۔ اس سارے ارینجمنٹ کا وہاں تعینات فوج سے کوئی تعلق نہیں۔ تیراہ کے مشران کے ساتھ صوبائی حکومت کے ان مذاکرات یا جرگے کے نتیجے میں نوٹیفکیشن جاری ہوا۔

خواجہ آصف نے بتایا کہ سالہا سال پہلے اس علاقے میں آپریشن ہوا تھا۔ پھر طے ہوا کہ آپریشن کی بجائے آئی بی اوز فائدہ مند ہیں۔ کئی سال سے آپریشن کی بجائے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ہو رہے ہیں۔ سوالات کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا، تیراہ میں یہ سردیوں میں مائیگریشن روٹین ہے، وہاں کوئی آپریشن نہیں ہو رہا، آپریشن کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔


خواجہ آصف نے مزید کہا، تیراہ میں کوئی تھانہ نہیں ہے، سویلین قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوئی موجودگی نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تیراہ میں ہزاروں ایکڑ پر بھنگ کی کاشت ہوتی ہے، اس سارے تنازعے میں یہ بھی بڑی وجہ ہے۔انہوں نے کہا، پاکستان میں بہت جگہ پر بھنگ کاشت ہوتی لیکن کسی ایک جگہ پر بارہ ہزار ایکڑ کاشت نہیں ہوتی۔


وزیر دفاع نے زور دیا کہ تصویر کا اصل رخ پیش کرنا ضروری ہے۔ ٹی ٹی پی کے ساتھ وہاں (تیراہ) کے لوگوں کے مفادات جڑے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے بتایا کہ گیارہ دسمبر کے جرگے کے بعد چوبیس دسمبر اور اکتیس دسمبر کو بھی یہ اجلاس ہوئے، فوج اس میں کہیں نظر نہیں آتی۔چوبیس افراد پر مشتمل جرگے کی موجودگی میں ریڈار پر فوج نظر نہیں آ رہی۔ خواجہ آصف نے کہا، کے پی کے حکومت اپنی ناکامیاں فوج اور اس آپریشن پر ڈالنا چاہتی ہے جس کا وجود ہی نہیں ہے۔ سردیوں میں انخلاء انوکھی چیز نہیں لیکن پی ٹی آئی حکومت نے اسے انوکھا بنا دیا۔ تیراہ میں جو کیمپس بنائے گئے وہ ناکافی ہیں، چار ارب روپے کے انتظامات نظر نہیں آرہے۔


خواجہ آصف نے کہا، آپریشن کے حوالے سے سب مفروضے ہیں، کئی سالوں سے تیراہ میں آپریشن نہیں ہوا، صرف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ہوتے۔ یہ چار ارب کہاں لگا، کتنا لگا، کتنا باقی ہے، یہ احتساب ہونا چاہیے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ جس نوٹیفیکیشن کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں وہ نوٹیفکیشن تو صوبائی حکومت کا اپنا ہے، لے لیں واپس۔
خواجہ آصف نے کہا، سہولیات فراہم نہ کرنا صوبائی حکومت کی ناکامی ہے۔


خواجہ آصف نے کہا افغان طالبان کے آنے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی بڑھی۔ پانچ مرتبہ کوشش کی، بات چیت کے ذریعے حل نکلے، لیکن ایسا ہو نہیں سکا۔ وزیردفاع نے کہا، کابل میں فرنچائز الگ ہے، قندھار میں الگ ہے، اپنے اختلافات بھی اس صورتحال کی وجہ ہیں۔ اس پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا، وفاقی حکومت یا اس کے تحت وہاں موجود فورسز تیراہ کے عوام کی مشکلات دور کرنے کے لیے تعاون پر تیار ہیں۔


عطاء تارڑ نے کہا، برٹش گزٹ میں لکھا ہے کہ تیراہ کے قبائل دیگر سے مختلف ہیں۔ 1899میں شائع ہونے والی کتاب میں لکھا ہے تیراہ کے یہ قبائل ہر سال سردیوں میں ہجرت کرتے ہیں۔ آپریشن، مریضہ خاتون راولپنڈی ملٹری ہسپتال پہنچ گئیں


پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے کہا، یہ جاننا ضروری ہے رچائے گئے ڈرامے کے مقاصد کیا ہیں۔ چار ارب روپے سے پیسے نکالے جاتے ہیں اور (پی ٹی آئی کی)اسٹریٹ موومنٹ پر لگائے جا رہے ہیں۔ اختیار ولی نے الزام لگایا کہ تیراہ میں نقل مکانی کا یہ پراجیکٹ بنایا گیا مال بنانے کے لیے۔ آٹھ فروری کے احتجاج کے لیے تیراہ کے عوام کو اپنی بھٹی کا ایندھن بنایا گیا ہے۔

install suchtv android app on google app store